پراسیکیوٹر جنرل، ڈپٹی چیئرمین نیب تعیناتی کیس، نوٹس جاری

پراسیکیوٹر جنرل، ڈپٹی چیئرمین نیب تعیناتی کیس، نوٹس جاری

انویسٹی گیشن کرانا چاہتے ہیں؟ سارا کیس خراب کر دیا، جسٹس عمیر، تحریری حکمنامہ نیب ترمیمی آرڈیننس منسوخ، آئینی حیثیت پر رائے غیر ضروری، جسٹس انعام امین

اسلام آباد (رضوان قاضی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سہیل ناصر اور ڈپٹی چیئرمین احتشام قادر کی تعیناتیوں کے خلاف کیس میں نیب ، وزارت قانون سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرلیا۔درخواست گزار جی ایم چودھری نے عدالت پیش ہو کر موقف اختیار کیاکہ پراسیکیوٹر جنرل نیب سہیل ناصر لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج رہے ، ایڈیشنل جج سابق جج نہیں لکھوا سکتا، جسٹس عمیر مجید ملک نے مسکراتے ہوئے کہا پھر تو ہمارے بیج بھی اتار دیں، ہم بھی ایڈیشنل جج ہیں،جسٹس عمیر نے استفسار کیا آپ ان تعیناتیوں کی انوسٹی گیشن کرانا چاہتے ہیں؟ یہ تو آپ نے سارا کیس خراب کردیا۔ وکیل نے کہا نیب آرڈیننس کے سیکشن 5 ، 6 ، 7 اور 8 کے مطابق تعیناتیاں نہیں ہوئیں۔ عدالت نے ریکارڈ طلب کرنے کی متفرق درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کر کے سماعت ملتوی کر دی۔ مزید برآں اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب حراست میں ریمانڈ کی مدت 40 دن کرنے کے نیب آرڈیننس کے خلاف کیس میں کہا کہ قانونی طور پر میعاد ختم ہونے پر نیب ترمیمی آرڈیننس خود منسوخ ہو چکا ہے ۔

جسٹس انعام امین منہاس نے ملک نجہ اللہ کی درخواست پر جاری تحریری فیصلہ میں کہا کہ آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کے بعد اس کی آئینی حیثیت پر رائے دینا غیر ضروری ہے ، درخواست گزار اپنے خلاف آرڈیننس کے تحت کارروائی یا سزا ثابت نہیں کر سکا، عدالت نے آئینی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی۔ علاوہ ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ایاز شوکت نے عمیر شفیق کی دائر درخواست پر جاری سماعت کے تحریری حکمنامہ میں آزاد کشمیر کا ڈومیسائل رکھنے والے وکیل کو اسلام آباد کے سول ججز کی بھرتی کے امتحان سے روکنے کے خلاف وزارت قانون، رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ و دیگر کو نوٹس جاری کر کے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...