زیادتی کیس آذربائیجان کی خاتون کا نیا بیان ،ملزم تنویر بے قصور،ضمانت ہوتے ہی دوبارہ گرفتار

زیادتی  کیس  آذربائیجان  کی  خاتون  کا  نیا بیان ،ملزم  تنویر  بے  قصور،ضمانت  ہوتے  ہی  دوبارہ  گرفتار

سمجھ نہیں آتاتنویر کو کیوں پکڑا ،عدالت میں بیان دینا چاہتی تھی ،مجھے زبردستی پاکستان سے نکالا ، ایسا سلوک ہوا جیسے مجرم ہوں اپنے ملزموں محسن اور عزیر کو بھی معاف کرتی ہوں، اس معاملے کو آ گے نہیں بڑھانا چاہتی :ڈیانا کی کیس ختم کرنے کی اپیل تنویر کے ساتھیوں اور پولیس میں تلخ کلامی ،فرار ہونے کے بعدپکڑا گیا،لڑکی کا بیان تفتیش پر اثرانداز ہونیکی کوشش ہے :ڈی آئی جی

لاہور(کرائم رپورٹر،کورٹ رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی آذربائیجان کی خاتون ڈیانا نے ملزم تنویر کو بے قصور قرار دیدیا اور زیادتی کیس ختم کرنے کی اپیل کر دی ،جبکہ بیگناہ قرار دئیے گئے ملزم کو عبوری ضمانت کے باوجود حراست میں لے لیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ڈیانا نے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ میرے ساتھ مبینہ زیادتی سے ملزم تنویر کا کوئی تعلق نہیں ، اس نے زیادتی نہیں کی، اس نے موبائل فون اور دیگر سامان مجھے واپس کر دیا تھا، میں نے پہلے کسی دباؤ میں آکر بیان دیا تھا ،ڈیانا نے آذربائیجان ایمبیسی کے ذریعہ بھیجی گئی دستاویزات میں بھی ملزم تنویر کو بے قصور لکھ دیا ہے ،احمد تنویر کی گرفتاری کے بعد ڈیانا کا ایک اور بیان سامنے آگیا جس میں انہوں نے کہا سمجھ سے باہر ہے کہ پولیس نے احمد تنویر کو کس بنیاد پر گرفتار کیا ہے ،میں اس وقت بھی عدالت جا کر بیان دینا چاہتی تھی،مجھے کہا گیا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ، مجھے زبردستی پاکستان سے بھیجا گیا ،مجھے اپنی مرضی سے اظہار کرنے اور فیصلہ کرنے کا موقع نہیں دیا گیا،اس سارے معاملے میں ایسا سلوک کیا گیا جیسے میں مجرم ہوں اور مجھے نکالا جا رہا ہے ،ڈیانا نے کہا کہ میں ملزم محسن اور عزیر کو بھی معاف کرتی ہوں اس معاملے کو آ گے نہیں بڑھانا چاہتی ۔ دوسری طرف سیشن کورٹ نے ملزم تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کردی، تفتیشی افسر نے عدالت میں موقف اپنایا کہ ملزم تفتیش میں شامل نہیں ہو رہا، عدالت نے حکم دیا کہ اسے کمرہ عدالت میں ہی شامل تفتیش کیا جائے ،ملزم کے وکیل نے کہا غیر ملکی خاتون نے کہا ہے کہ تنویر اس کا ملزم نہیں، وکیل نے استدعا کی کہ خاتون کو پاکستان بلوایا جائے یا ویڈیو لنک کے ذریعے اس کا بیان ریکارڈ کیا جائے ،سماعت کے دوران پولیس کی بھاری نفری سیشن کورٹ پہنچ گئی، اس موقع پر پولیس اور ملزم کے ساتھیوں کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی،پولیس نے ملزم کے ساتھ آنے والے بعض افراد کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کر دیا۔

تاہم ملزم تنویر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا، بعد ازاں اسے اسکے بھائی و دیگر افراد سمیت حراست میں لے لیا گیا،دوسری جانب تنویر کی مبینہ گرفتاری کے خلاف عدالت میں درخواست بھی دائر کردی گئی ہے ، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم 27 اکتوبر تک عبوری ضمانت پر تھا، تاہم سی سی ڈی اور سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے اسے اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا،درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ملزم کو غیر قانونی حراست میں رکھ کر پولیس مقابلے میں ہلاک کیا جا سکتا ہے ، عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ تنویر کو فوری بازیاب کراکے عدالت میں پیش کیا جائے ،ادھر ڈیانا کے وکیل نے مدعیہ کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کی درخواست دائر کردی،وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مدعیہ کو پاکستان کا ویزا نہیں دیا جا رہا، لہٰذا عدالت ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دے ۔ عدالت نے درخواست پر دلائل طلب کرلیے ، متاثرہ لڑکی کے ویڈیو بیان کے معاملے پر پولیس کا موقف بھی سامنے آگیا ہے ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے کہا ہے کہ متاثرہ لڑکی کا بیان ریکارڈ کروا کر کیس کی تفتیش کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ،سید ذیشان رضا کے مطابق متاثرہ لڑکی کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان عدالت میں پہلے ہی ریکارڈ ہو چکا ہے ،لڑکی عدالت میں تین ملزموں کیخلاف زیادتی کا بیان دے چکی ہے ،دیگر دو گرفتار ملزم احمد تنویر کے ملوث ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں،تیسرے ملزم کو ہر صورت شاملِ تفتیش کرکے میرٹ پر تفتیش مکمل کی جائے گی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...