BISPسے22لاکھ 59ہزار افراد خارج،6لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کی جانچ کا فیصلہ

BISPسے22لاکھ  59ہزار  افراد  خارج،6لاکھ  سے زائد  سرکاری  ملازمین  کی  جانچ  کا  فیصلہ

ایک لاکھ 40 ہزار سرکاری ملازمین نے 24 ارب وصول کئے ، غبن کی 55 ہزار 579 شکایات ، ڈیجیٹل والٹ لانیکا فیصلہ فائیو جی کی مکمل فراہمی میں مزید دو سال لگنے کا امکان، 24 شہروں میں موبائل سروس، 1782 مقامات پر نیٹ ورک قائم پاکستان میں 3 کروڑ افراد ذیابیطس کا شکار ،جرمنی سے انسولین کی سپلائی بند ، کمی کا خدشہ،کورم نامکمل ، اجلاس پیر تک ملتوی

 اسلام آباد (اسلم لڑکا، سید قیصر شاہ) قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ یکم جولائی 2025ء سے 30 جون 2026ء تک بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے 22 لاکھ 59 ہزار 404 افراد کو خارج کیا گیاجبکہ غیر مجاز کٹوتیوں، غبن اور نقد رقم کے غیر قانونی اخراج سے متعلق 55 ہزار 579 شکایات موصول ہوئیں۔ دستاویزات کے مطابق ایک لاکھ 40 ہزار 488 سرکاری ملازمین نے پروگرام سے 24 ارب روپے وصول کیے ۔ بیگمات بھی مستفید ہوئیں ، بی آئی ایس پی کی دستاویزات کے مطابق مالی سال 2020-21 میں 12 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین نے 14 کروڑ 67 لاکھ روپے وصول کیے ۔ 2021-22 میں 2 ہزار 447اور 2022-23 میں 2 ہزار 235، 2023-24 میں 227 اور 2024-25 میں 12 ہزار 78 سرکاری ملازمین نے رقوم حاصل کیں۔ ایف آئی اے نے سرکاری ملازمین سے 54 کروڑ روپے جبکہ دیگر سرکاری محکموں نے 14 کروڑ 50 لاکھ روپے وصول کیے ۔ مالیاتی فراڈ میں بی آئی ایس پی کے 236 ملازمین بھی ملوث پائے گئے جبکہ ادارے نے اپنے ملازمین سے 2 کروڑ 15 لاکھ روپے واپس لیے ۔ فراڈ میں ملوث ملازمین کا ریکارڈ متعلقہ اداروں کو بھجوا دیا گیا ہے اور 6 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین و پنشنرز کے ریکارڈ کی جانچ کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔حکومت ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے مستحقین کو براہ راست ادائیگیاں کرنے کا نظام متعارف کروا رہی ہے تاکہ ایجنٹوں کی غیر قانونی کٹوتیوں کا خاتمہ کیا جا سکے ۔

جن گھرانوں کی سماجی و معاشی جانچ مکمل نہیں ہوئی یا پی ایم ٹی سکور 32 سے 37 ہے ، انہیں ہر تین سال بعد دوبارہ رجسٹریشن کرانا ہوگی۔ غیر مجاز کٹوتیوں کے مرتکب ایجنٹس اور پے ماسٹرز کے معاہدے ختم کرنے اور قانونی کارروائی کی بھی اطلاع دی گئی۔ ایوان میں بتایا گیا کہ فائیو جی کی نیلامی ہو چکی ہے اور 3 سیلولر کمپنیوں نے حصہ لیا تاہم ملک بھر میں سروس کی مکمل فراہمی میں مزید 2 سال لگ سکتے ہیں۔ ملک کے 24 شہروں میں موبائل خدمات فراہم کی جا رہی ہیں اور 1782 مقامات پر نیٹ ورک قائم ہیں۔ نور عالم خان نے کہا کہ فور جی بھی خراب ہے اور پارلیمنٹ لاجز میں انٹرنیٹ درست کام نہیں کرتا۔ اجلاس کے صدر عبدالقادر پٹیل نے بھی انٹرنیٹ کی خراب صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ آصفہ بھٹو نے نواب شاہ میں فور جی اور فائیو جی کی عدم دستیابی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے مسئلے کے حل کے لیے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کی۔ نبیل گبول نے بھی انٹرنیٹ کی ناقص صورتحال پر تنقید کی۔ نفیسہ شاہ نے سموگ سے نمٹنے کے لیے وفاقی پالیسی کے فقدان پر تنقید کی۔ پاکستان میں 3 کروڑ سے زائد افراد ذیابیطس کا شکار ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری نیلسن عظیم کے مطابق اکتوبر کے پہلے ہفتے میں جرمنی سے درآمد ہونے والی انسولین کی سپلائی بند ہونے سے قلت پیدا ہوئی۔ پہلے 3500 کٹس فراہم کی جاتی تھیں جن کی تعداد کم ہو کر 1000 رہ گئی جبکہ مزید کمی کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متبادل انسولین مصنوعات دستیاب ہیں، تاہم انہیں ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے بعد جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے حکومتی بل کی منظوری کا ایجنڈا پیش کیے جانے پر کورم کی نشاندہی کی۔ گنتی پر کورم پورا نہ ہونے کی تصدیق ہوئی جس کے باعث بل کی منظوری کا عمل رک گیا۔ بعدازاں اجلاس پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...