ٹوٹی گردن ، پھٹے ہونٹ ، حنا کی پوسٹمارٹم رپورٹ میں تشدد کی تصدیق
سر کے پچھلے حصے پر 27سینٹی میٹر طویل گہرا زخم ، پھیپھڑوں میں خون بھرا ہوا تھا داخلہ کمیٹی کا 29اکتوبر کو اجلاس ، ایڈیشنل آئی جی ،آر پی او ،ایس ایس پی انویسٹی گیشن طلب اہلخانہ کا پولیس تفتیش پر عدم اعتماد، شفاف تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ
راولپنڈی (دنیا نیوز،نیوز ایجنسیاں ) حنا جاوید قتل کیس میں تشدد کی مزید تصاویر اور اصل پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی جس میں مقتولہ کے جسم پر تشدد اور متعدد سنگین زخموںکی تصدیق ہوئی ہے ۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق حنا جاوید کے چہرے ، گردن، بازوؤں اور ہاتھوں پر زخموں کے نشانات تھے جبکہ ان کی گردن ٹوٹی ہوئی اور ہونٹ پھٹے ہوئے تھے ۔ مقتولہ کے جسم پر تشدد اور مبینہ درندگی کے بہت سے شواہد سامنے آئے ، رپورٹ کے مطابق حنا جاوید کے چہرے ، گردن، بازوں اور ہاتھوں پر تشدد اور گہرے زخموں کے نشانات پائے گئے ، جسم کے مختلف حصوں پر نیل کے نشانات موجود تھے ، حنا جاوید کے سر کے پچھلے حصے پر 27 سینٹی میٹر طویل گہرا زخم پایا گیا۔
مقتولہ کی کوہنیوں میں سکرو ڈرائیور سے سوراخ کئے گئے تھے ، حنا جاوید کے دائیں اور بائیں بازو پر تشدد اور نیل کے نشانات موجود تھے ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مقتولہ کے پھیپھڑوں میں خون بھرا ہوا تھا۔ دل کے گرد موجود پیراکارڈیم میں بھی خون جمع تھا۔پارلیمنٹ کی داخلہ کمیٹی نے کیس پر غور کے لیے 29 اکتوبر کو اجلاس طلب کرلیا ، اجلاس میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن، ایڈیشنل آئی جی، آر پی او اور مقتولہ کے اہلخانہ کو طلب کیا گیا ۔ مقتولہ کے اہلخانہ نے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ حنا جاوید کو 20 اگست کو سسرال میں تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھا، مقتولہ کی لاش کو قتل کے بعد باتھ روم میں شاور کے ساتھ لٹکایا گیا تھا۔حنا جاوید قتل کیس کا مقدمہ تھانہ سول لائنز راولپنڈی میں درج ہے ، نامزد مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments