وزارت خارجہ کا عدالتی حکم پر جج کی مہر نا ہونے کا انوکھا اعتراض

وزارت خارجہ کا عدالتی حکم پر جج کی مہر نا ہونے کا انوکھا اعتراض

دفتر خارجہ افسر کی طلبی ، کیا کسی جج کی مہر ہوتی ہے ؟جسٹس اعظم کا استفسار معاملہ فوری حل کرکے بتائیں :عدالت ، سماعت آئندہ ہفتے تک کیلئے ملتوی کردی

 اسلام آباد(رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان کی عدالت نے پاسپورٹ بلیک لسٹ سے نکالنے سے متعلق کیس میں عدالتی احکامات کی تصدیق کیلئے وزارت خارجہ کی جانب سے عدالتی آرڈر پر ہائیکورٹ کے جج کی مہر نا لگے ہونے کا انوکھا اعتراض سامنے آگیا، شہری ضیاء الحق کی درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے وزارت خارجہ کا اعتراض عدالت کو بتایاگیا، جس پر عدالت نے دفتر خارجہ حکام کو فوری طلب کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا، دوبارہ سماعت کے دوران دفتر خارجہ کا افسر عدالت میں پیش ہو ا،جسٹس اعظم خان نے دفتر خارجہ کے افسر سے استفسار کیا کسی جج کی مہر ہوتی ہے ؟،عدالتی آرڈر کاپی برانچ جاری کرتی ہے ، اسی کی مہر ہوتی ہے ، جسٹس اعظم خان نے دفتر خارجہ کے افسر سے کہاکہ کبھی کامن سینس بھی استعمال کر لیا کریں،جو مہر لگی کاپی جمع ہوئی اسکو سرٹیفائیڈ کاپی کہتے ہیں ،درخواست گزار نے پہلے وکیل کیا ہوگا اسکو بھاری فیس دی ہو گی،لوگ پہلے ہی تنگ ہیں ان کو مزید تنگ نہ کریں، فوری اس معاملہ کو حل کریں اور بتائیں، جسٹس اعظم خان نے دفتر خارجہ کے وکیل سے کہاکہ وکیل صاحب ان کو سمجھائیں کہ عدالتی طریقہ کار کیا ہوتا ہے ،عدالت نے ہدایات کے ساتھ سماعت آئندہ ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...