پاکستان اب ٹرمپ نہیں،امریکا سے تعلقات پر توجہ دیگا
اسرائیل نے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے امریکا کوایران جنگ میں دھکیلا
(تجزیہ:سلمان غنی)
نیتن یاہو کے بعد امریکی انتخابات میں صدر ٹرمپ کو شکست نے ان کی سیاسی حیثیت اور اہمیت کو بری طرح سے متاثر کیا ہے اگرچہ وہ اپنے منصب پر قائم ہیں اور ویٹو کا اختیار بھی رکھتے ہیں لیکن کانگریس میں اپنی اکثریت کھو جانے کے بعد ان کی فیصلہ سازی کی پوزیشن متاثر ہوگی اور خود امریکہ کے باہر ان کی اہمیت و دبدبہ قائم نہیں رہ پائے گا، ان کی قانون سازی کی پوزیشن اور ایجنڈا کو بھی دھچکا لگا ہے ،اپنے اقتدار کے آخری دو سالوں میں جارحانہ انداز کی بجائے دفاعی محاذ پر آنا پڑے گا ، اگر امریکی انتخابات اور ری پبلکن کی شکست کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بنیادی کردارصدر ٹرمپ کا نظر آتا ہے جنہوں نے واضح کہا تھا کہ امریکہ اب دنیا کی جنگوں میں فریق بننے کی بجائے اپنی اندرونی صورتحال اور معیشت پر توجہ دے گا لیکن صدر ٹرمپ نے برسر اقتدار آ کر وہ کچھ کیا جس سے وہ انتخابی مہم میں نالاں نظر آتے تھے ،امریکی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی شکست کو عالمی میڈیا حکومت کے خلاف رائے دہندگان کے ریفرنڈم کے طور پر دیکھ رہا ہے ،43فیصد ووٹرز نے واضح طور پر اعلان کیا۔
کہ وہ صدر ٹرمپ کے خلاف اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے لئے نکلے ہیں،صدر ٹرمپ کے لئے ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد 16فیصد تھی،امریکی عوام سمجھتی تھی کہ صدر ٹرمپ نے برسراقتدار آ کر اسرائیل کے مفادات کے لئے ایران پر جارحیت مسلط کر کے اصل نقصان امریکہ اور امریکی عوام کا کیا ،ایران کے خلاف جنگ نے وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی شکست میں فیصلہ کن اثر ڈالا ہے ، جنگ میں ایندھن کی قیمتوں نے روزمرہ زندگی کو متاثر کیا جس نے صدر ٹرمپ کی معیشت پر توجہ کی بنیاد کو نقصان پہنچایا ،اگر یہ کہا جائے تو حقیقت کے قریب تر بات ہوگی کہ اسرائیل نے اپنے حقیقی گرو امریکہ کو اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلا،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بعد خود صدر ٹرمپ بھی اپنی سیاسی مقبولیت کھو بیٹھے ، جہاں تک پاکستان کے طرز عمل کا سوال ہے تو سرکاری سطح پر تو صدر ٹرمپ کی شکست پر کوئی مضبوط ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن پاکستان اب صدر ٹرمپ پر فریفتہ ہونے کی بجائے امریکہ سے اپنے معاملات بہتر رکھنے پر توجہ دے گا،ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئندہ رابطے کی توجہ صرف وائٹ ہاؤس نہیں بلکہ امریکی کانگریس اور وسیع سیاسی حلقوں کی طرف ہوگی ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments