فٹ بال ہیروز کی دنیا
20 اگست 1987کو فٹبال کے گڑھ لیاری میں محمد اسحق سربازی کے گھر آنکھ کھولنے والا محمد وسیم نامی بچے نے جنم لیا۔ کون جانتا تھا کہ یہ بچہ بڑا ہوکر اپنا اور اپنے ملک کا نام فٹبال کی دنیا میں اتنا روشن کرے گا کہ اس کا خاندان اس پر فخر کرے گا۔ 2007 میں محمد وسیم کراچی کے ایم سی اسٹیڈیم میں اینٹی نارکوٹکس فٹبال ٹورنامنٹ میں لیاری اسٹار فٹبال کلب کی نمائندگی کر رہے تھے
کراچی (امتیاز نارنجا) یہ وہ کلب ہے جس سے لی جنڈ علی نواز، نوشاد بلوچ، شاہد رحمن (پی آئی اے)، اصغر ڈاڈا (نیشنل بینک)، طارق حسین، ثمین ابراہیم، محمد یاسین، محبوب (حبیب بینک) جیسے اسٹارز نے جنم لیا۔ ایم سی فٹبال ٹیم کے منیجر احمد جان نے محمد وسیم کے کھیل پر نہ صرف اس کی تعریف کی بلکہ اسے کے ایم سی فٹبال ٹیم میں کھیلنے کی پیشکش کی اور یہاں سے محمد وسیم کا عروج شروع ہوا۔ اسی سال پی ڈبلیو ڈی میں اس کو مستقل ملازمت مل گئی اور پی ایف ایف ’بی‘ ڈویژن لیگ میں پی ڈبلیو ڈی کی نمائندگی کرتے ہوئے اسے تاجکستان جانے والی انڈر 19 ٹیم کے کیمپ میں طلب کرلیا گیا اور 2007 میں اسے پہلی مرتبہ قومی کلر زیب تن کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اسی سال ایشین کپ کوالیفائر کھیلنے کیلئے محمد وسیم اومان، یواے ای اور بحرین کا قومی ٹیم کے ہمراہ دورہ کیا۔ اگلے سال اسے قومی ٹیم کی انڈر21 میں ایک بار پھر جگہ ملی جب ورلڈ کپ کوالیفائر کیلئے سنگاپور کیلئے اس کا انتخاب ہوا۔ 2008 میں دوستانہ میچ کھیلنے وہ قومی ٹیم کے ہمراہ ملائشیا گئے۔ 2009 میں انڈر21 ٹیم نے ورلڈ کپ کوالیفائر کے دوسرے مرحلہ کا ٹکٹ حاصل کیا تھا۔ 2009 ہی میں وہ بھارت کے دورے پر گئے ۔ محمد وسیم جسے پیار سے چینا بھی کہتے ہیں نے 2012 میں کے پی ٹی جوائن کی۔