ٹیم دباؤ میں کارکردگی دکھانے میں ناکام سلمان کا اعتراف
تمام فیصلے کوچ کے ساتھ مشاورت سے کیے گئے ، سلیکشن میں بھی ہم شامل تھے اور پلیئنگ الیون بھی ہم نے ہی میدان میں اتاری ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں،وطن واپسی کے بعد دو سے چار روز میں مشاورت کے بعد کپتانی کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرونگا
کولمبو(سپورٹس ڈیسک)پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کپتانی سے متعلق اہم اعلان کر دیا۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا کہ بطور کپتان ناکامی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ تمام فیصلے کوچ کے ساتھ مشاورت سے کیے گئے ، سلیکشن میں بھی ہم شامل تھے اور پلیئنگ الیون بھی ہم نے ہی میدان میں اتاری۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹیم دباؤ میں اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی،جب ٹیم مسلسل دباؤ میں ہو تو فیصلہ سازی متاثر ہوتی ہے اور یہی معاملہ اس ٹورنامنٹ میں بھی دیکھنے کو ملا۔ انہوں نے کہا کہ دباؤ کے لمحات میں ہمارے فیصلے اس معیار کے نہیں تھے جیسے ہونے چاہئیں ۔سلمان علی آغا نے یہ بھی کہا کہ ہم ابھی کہہ سکتے تھے کہ فخر زمان کو پہلے 4 میچز کھیلنے چاہئیں تھے ، لیکن اُس وقت اُن کی پرفارمنس اچھی نہیں تھی، ہمیں میچ سے پہلے ہی علم تھا کہ ہمیں کیسے پلان کرنا ہے تاکہ سیمی فائنل میں پہنچیں۔بیٹنگ کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے کپتان نے اعتراف کیا کہ چند کھلاڑیوں کے سوا زیادہ تر بیٹرز توقعات پر پورا نہیں اتر سکے ۔ کپتانی چھوڑنے سے متعلق سوال کے جواب میں سلمان علی آغا نے کہا کہ اس وقت جذبات میں آ کر کوئی فیصلہ کرنا درست نہیں ہوگا،وطن واپسی کے بعد دو سے چار روز میں مشاورت کے بعد کپتانی کے حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے ۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ یہ پاکستان کا مسلسل چوتھا آئی سی سی ایونٹ ہے جس میں ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہیں کر سکی، اس لیے اب ضروری ہے کہ خامیوں کا سنجیدگی سے تجزیہ کیا جائے ، خاص طور پر دبا میں فیصلہ سازی کو بہتر بنایا جائے ، تاکہ آئندہ بڑے مقابلوں میں ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔