محسن نقوی نے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کو لازمی قرار دیدیا
کسی بھی کھلاڑی کو آگے بڑھنے کیلئے مجموعی پرفارمنس کے مراحل سے گزرنا ہوگا، سلیکشن کمپیوٹرائزڈ ہوگی ،ٹیسٹ کپتان کا فیصلہ کرکٹ مائنڈز کرینگے یونس خان سے مل رہاہوں ،سرفرازاحمدکرکٹ کااثاثہ ہیں ، نئی پالیسیاں قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لائیں گی:چیئرمین پی سی بی ،ریڈ بال کیمپ کا دورہ
لاہور(سپورٹس ڈیسک )چیئرمین پی سی بی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایل سی سی اے گراؤنڈ میں جاری ریڈ بال کیمپ کا دورہ کیا، کھلاڑیوں اور کوچز سے ملاقات کی اور تربیتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید، سابق کپتان سرفراز احمد اور مصباح الحق، مائیک ہیسن اور دیگر کوچز بھی موجود تھے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں اصلاحات کے لیے نئی پالیسیوں پر کام مکمل کیا جا رہا ہے ۔ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی ہو گا، ڈومیسٹک کے بغیر کنٹریکٹ نہیں ملے گا۔ جو کیٹیگری پر پورا نہیں اترتا اسے کنٹریکٹ نہیں ملے گا، 5 کیٹیگریز ہوں گی، ٹیسٹ کرکٹ کی کیٹیگری کو اچھا کیا ہے ۔ ٹیسٹ کے ساتھ ٹی 20 کیٹیگری نہیں ہو گی، وہ الگ ہوگی، کسی بھی کھلاڑی کو آگے بڑھنے کے لیے فٹنس، ڈومیسٹک کارکردگی اور مجموعی پرفارمنس کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔ٹیسٹ کپتان کا فیصلہ کرکٹ مائنڈز کرینگے ، کل تمام کھلاڑیوں کو مشاورت کے لیے بلایا گیا ہے ۔ موجودہ اصلاحات کے نتائج ایک سے دو سال میں سامنے آئیں گے اور پاکستان کرکٹ کو طویل المدتی بنیادوں پر مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
شاداب خان کی ممکنہ کپتانی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ان کے علم میں کوئی حتمی بات نہیں۔یونس خان سے مل رہا ہوں کرکٹ مائنڈز کو بڑھا رہے ہیں تاکہ نتائج آئیں، سلیکشن میں اپنے میں ہاتھ میں نہیں لینا چاہتا تجاویز دے سکتا ہوں۔ سرفراز احمد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ کا ایک اہم اثاثہ ہیں اور ان کے کردار کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ نئی پالیسیاں قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لائیں گی۔ ماضی میں بعض غلط پالیسیوں اور ذاتی مفادات نے پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچایا، تاہم اب ادارے کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے ۔ ٹی ٹونٹی، ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ کے لیے الگ حکمت عملی مرتب کی گئی ہے اور کھلاڑیوں کے انتخاب کے نظام کو زیادہ سے زیادہ کمپیوٹرائزڈ بنایا جا رہا ہے تاکہ انسانی مداخلت کم ہو۔ سلیکشن کے عمل میں تقریباً 85 فیصد فیصلے ڈیٹا، فٹنس اور کارکردگی کی بنیاد پر ہونگے ، سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے پانچ کیٹیگریز متعارف کرائی جا رہی ہیں جبکہ ایمرجنگ پلیئرز کیلئے خصوصی کیٹیگری بھی بنائی گئی ہے ، ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹونٹی تینوں فارمیٹس میں میچ فیس بڑھائی جا رہی ہے ۔