بنگلہ دیشی کرکٹر نعیم حسن پر پولیس تشدد ، 3 اہلکار معطل
قومی کھلاڑی کیساتھ ایسا سلوک افسوسناک،فوری توجہ کا متقاضی :کرکٹ بورڈ
ڈھاکا (اے ایف پی) بنگلہ دیش کے ٹیسٹ کرکٹر آف سپنر نعیم حسن نے الزام عائد کیا ہے کہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب چٹاگانگ میں گھر واپسی کے دوران پولیس اہلکاروں نے انہیں روک کر تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ بنگلہ دیش بورڈ نے کہا کہ وہ اس واقعے پر ‘‘گہری تشویش’’ رکھتا ہے اور معاملے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے ۔الزامات سامنے آنے کے بعد پولیس نے تصدیق کی کہ مزید تحقیقات تک تین پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے ۔26 سالہ نعیم حسن کے مطابق وہ ڈھاکا پریمیئر لیگ میں میچ کھیلنے کے بعد بنگلہ دیش کے دوسرے بڑے شہر چٹاگانگ میں واقع اپنے گھر جا رہے تھے کہ راستے میں پولیس نے انہیں روک لیا۔نعیم حسن نے صحافیوں کو بتایا کہ میں رکشے سے اترا اور پولیس کو کہا کہ میرا بیگ چیک کر لیں، لیکن ایک اہلکار نے مجھ سے کہا کہ گاڑی میں بیٹھ جاؤ، تم ایک ملزم ہو۔ پولیس اہلکاروں نے ان کا گلا پکڑا، زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور پائپ سے تشدد کیا، حالانکہ وہ بار بار خود کو بنگلہ دیشی قومی کرکٹ ٹیم کا کھلاڑی ظاہر کرتے رہے ۔ تھانے پہنچنے کے بعد ڈیوٹی افسر نے انہیں کہا، ‘‘نگاہیں نیچی رکھو اور سر جھکا کر بات کرو۔’’،بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ کھلاڑی کے ساتھ روا رکھے گئے ‘‘ناقابل قبول اور نامناسب رویے ’’ کی سخت مذمت کرتا ہے اور اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھتا ہے ۔قومی کھلاڑی کے ساتھ ایسا سلوک انتہائی افسوسناک ہے اور فوری توجہ کا متقاضی ہے ۔