مصنوعی کششِ ثقل والے خلائی سٹیشنز حقیقت کے قریب تر

مصنوعی کششِ ثقل والے خلائی سٹیشنز حقیقت کے قریب تر

لاہور(نیٹ نیوز)ایسے خلائی سٹیشنز، جو مصنوعی کششِ ثقل پیدا کر سکیں گے اور انسانوں کو نظامِ شمسی کی گہرائیوں تک سفر کے قابل بنائیں گے ، اب حقیقت کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

امریکی کمپنی واسٹ ایک بڑے اور جدید خلائی رہائشی مرکز پر کام کر رہی ہے جو گردش کے ذریعے پیدا ہونے والی سینٹریپیٹل فورس سے مصنوعی کششِ ثقل پیدا کرے گا۔اس ٹیکنالوجی کی بدولت انسان طویل عرصے تک خلا میں رہ سکیں گے ۔ بغیر اس کے کہ انہیں زیرو گریویٹی کے شدید مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑے ۔ اس طرح مریخ اور اس سے بھی دور مقامات تک طویل المدت انسانی مشن ممکن ہو سکیں گے ۔کمپنی کے نائب صدر ٹام شیلے نے کہا کہ مصنوعی کششِ ثقل والے خلائی سٹیشن ہمیں خلا میں پہلے سے کہیں زیادہ دور اور گہرائی تک جانے کا موقع فراہم کریں گے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں