غیر قانونی سکن ٹریٹمنٹس اور انجکشن، صحت کیلئے سنگین خطرہ

 غیر قانونی سکن ٹریٹمنٹس اور انجکشن، صحت کیلئے سنگین خطرہ

غیر معیاری ادویات اور انجکشنز جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں: طبی ماہرین

ٹو بہ ٹیک سنگھ (ڈسٹرکٹ رپورٹر )ٹوبہ ٹیک سنگھ میں متعدد بیوٹی پارلرز میں سکن ٹریٹمنٹ، ہائیڈر فیشل، فیشل فلرز، بوٹوکس اور چہرے پر مختلف انجیکشنز کھلے عام کیے جا رہے ہیں، جبکہ ان پر کوئی مؤثر چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں۔ماہرین کے مطابق یہ تمام میڈیکل نوعیت کے اقدامات صرف مستند ایم بی بی ایس ڈاکٹر یا ماہرِ جلد (ڈرماٹولوجسٹ) ہی کر سکتے ہیں، مگر شہر کے کئی بیوٹی پارلرز میں غیر تربیت یافتہ افراد یہ خطرناک عمل انجام دے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق غیر قانونی انجکشنز اور سکن ٹریٹمنٹس کے باعث متعدد خواتین جلدی الرجی، انفیکشن، چہرے پر سوجن، داغ دھبے اور مستقل نقصانات جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں بغیر میڈیکل ہسٹری، الرجی ٹیسٹ یا ڈاکٹر کی موجودگی میں مہنگے اور خطرناک انجکشن لگائے گئے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائیڈر فیشل، PRP، فلرز اور بوٹوکس کے لیے نہ صرف میڈیکل علم بلکہ جراثیم سے پاک ماحول اور ایمرجنسی سہولیات بھی ضروری ہیں، جو عام بیوٹی پارلرز میں دستیاب نہیں ہوتیں۔ غیر معیاری ادویات اور انجکشنز جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔شہری حلقوں نے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں