وزیر اعلٰی کی ہدایات کے باوجود وال چاکنگ ختم نا ہوئی شہر کی خوبصورتی متاثر کڑوروں کا نقصان

وزیر اعلٰی کی ہدایات کے باوجود وال چاکنگ ختم نا ہوئی شہر کی خوبصورتی متاثر کڑوروں کا نقصان

جنوری 2025 میں وزیر اعلیٰ نے ہدایات دی تھیں ایک سال بعد بھی اس پر عمل نہیں ہوا ،دیواروں پر غیر اخلاقی جملے بھی تحریر ،جعلی عاملوں کے اشتہارات عام ہیں ،شہریوں کو بھی اذیت کا سامنا

فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کی غفلت کے باعث وزیراعلیٰ کی جانب سے جاری کردہ پرفارمنس انڈیکیٹرز (کے پی آئیز) کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ خصوصی ہدایات کے باوجود شہر سے وال چاکنگ کا خاتمہ نہ ہو سکا، ایک جانب شہر کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے تو دوسری جانب خیر قانو نی اشتہارات سے بھی خزانے کو بھی کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے ۔

وزیراعلیٰ کی جانب سے مختلف کے پی آئیز جاری کیے گئے ہیں، وال چاکنگ کے خاتمے کو بھی بطور پرفارمنس انڈیکیٹر شامل کیا گیا ۔ یہی کے پی آئیز اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی رینکنگ کا تعین کرتے ہیں، تاہم فیصل آباد میں اس کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔9 جنوری 2025 کو معاملہ سامنے آیا تھا کہ میونسپل افسر وال چاکنگ سے متعلق درست رپورٹس پیش نہیں کرتے اور ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی جاتی ہے ، جس کے باعث فیصلہ کیا گیا کہ وال چاکنگ سے متعلق رپورٹس سپیشل برانچ سے حاصل کی جائیں گی، ایک سال گزرنے کے باوجود وال چاکنگ کا مکمل خاتمہ ممکن نہ ہو سکا۔

شہر بھر میں مختلف دیواروں پر تحریریں موجود ہیں، جن میں غیر اخلاقی جملے ، جعلی عاملوں کے اشتہارات، حکما کی تشہیر اور غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے غیر قانونی اشتہارات ہیں۔ اس صورتحال سے صرف شہر کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے بلکہ شہریوں کو بھی اذیت کا سامنا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن اور پی ایچ اے کی جانب سے مسئلے پر کوئی مؤثر توجہ نہیں دی جا رہی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں