کورے سے فصلوں کے تحفظ کیلئے کاشتکاروں کو ہدایات

 کورے سے فصلوں کے تحفظ کیلئے کاشتکاروں کو ہدایات

فیصل آباد (خصوصی رپورٹر)ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ شدید سردی اور کورے کے باعث پودوں کے تنوں، شاخوں اور پتوں کے خلیوں میں موجود پانی جم کر برف بن جاتا ہے ، جس سے پودوں کی نشوونما بری طرح متاثر ہوتی ہے اور بعض اوقات پودے مر بھی جاتے ہیں۔

 انہوں نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ فصلوں اور باغات کو سردی اور کورے سے محفوظ رکھنے کے لیے محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کریں۔باغات کو سخت سردی سے بچانے کے لیے پودوں کے تنوں پر چونا اور نیلا تھوتھا ملا کر سفیدی کرنا مفید ہے ، جس سے سردی کے اثرات میں نمایاں کمی آتی ہے ۔ اس کے علاوہ پودوں کے تنوں کے گرد پرانی بوری یا پرالی لپیٹ کر بھی سردی کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کیڑے اور بیماریاں پودوں کو کمزور کر دیتی ہیں، اس لیے ان کا بروقت تدارک ضروری ہے تاکہ پودے صحت مند اور توانا رہیں۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ کہر کی متوقع راتوں میں آبپاشی ضرور کی جائے کیونکہ آبپاشی سے زمین کے درجہ حرارت میں توازن رہتا ہے اور پودے سردی کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔محکمہ زراعت کے ترجمان کے مطابق باغات میں پودوں کی عمر کے مطابق ان کے گرد گلا سڑا گوبر بکھیرنے سے زمینی درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی رکتی ہے اور کورے کے ممکنہ نقصان سے بچاؤ ہوتا ہے ۔ نرسریوں میں پھلدار پودوں کو شیشم یا دیگر شاخوں سے اس طرح ڈھانپنا چاہیے کہ دن کے وقت سورج کی روشنی پہنچتی رہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں