ماموں کانجن پولیس پر جھوٹے مقدمات اور رشوت کا الزام
غریب دیہاتی محمد اکرام کو ڈکیتی کے سات مقدمات میں نامزد کر دیا
ماموں کانجن (نمائندہ دنیا)تھانہ ماموں کانجن پولیس پر الزام ہے کہ انہوں نے افسران کی کارکردگی دکھانے کے لیے غریب دیہاتی محمد اکرام ماچھی کو پکڑ کر اسے ڈکیتی کے سات پینڈنگ مقدمات میں نامزد کیا اور جیل بھیج دیا۔ بعد ازاں، تاندلیانوالا پولیس نے اسے اپنے تین پرانے پینڈنگ مقدمات میں نامزد کر کے جیل بھجوا دیا۔مبینہ طور پر ضمانت ہوتے ہی سی آئی اے سٹاف گلبرک نے اسے دوبارہ پکڑ کر 50 ہزار روپے رشوت لیکر رہا کیا۔ اکرام کے والد منظور ماچھی نے مقامی پریس کلب میں بیوی بچوں کے ہمراہ میڈیا کو بتایا کہ فیصل آباد پولیس کے آر پی او کی ہدایات کے تحت منشیات فروشی اور پینڈنگ مقدمات فوری نمٹانے کے نام پر بیگناہ افراد پر جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔اکرام ماچھی کے مطابق تھانہ ماموں کانجن کی پولیس نے پیسے نہ دینے پر اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور ڈکیتی کرنے کا اقرار کرنے پر زور دیا۔ ان کے والد نے بتایا کہ بیٹے کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے تین لاکھ روپے کا مقروض بنایا گیا۔مقامی انتظامیہ نے الزامات کو من گھڑت قرار دیا ہے ، جبکہ تاندلیانوالہ تھانہ صدر کے آئی او رائے سعید سے موقف کے لیے رابطہ نہیں ہو سکا۔