بلوچنی میں سرکاری کتابوں کی فروخت کا انکشاف

بلوچنی میں سرکاری کتابوں کی فروخت کا انکشاف

کروڑوں روپے کی کتابوں کی فروخت محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

بلوچنی (نمائندہ دنیا)بلوچنی اور گرد و نواح میں حکومت پنجاب کی سرکاری کتابیں ناٹ فار سیل ہونے کے باوجود بازار میں پوری قیمت پر فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، جس پر محکمہ تعلیم پر سوالیہ نشان اٹھ گئے ہیں۔ ایک ماہ سے ضلع بھر کے بک ڈپوز پر سرکاری مفت کتابیں عام طور پر فروخت کی جا رہی ہیں اور ان پر پرائیویٹ پبلشرز کی کتب کے مطابق قیمت وصول کی جا رہی ہے ۔عوامی و سماجی حلقوں کے مطابق یہ امر حیران کن ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں سرکاری کتابیں مارکیٹ میں کیسے آئیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یا تو وئیر ہاؤسز اور سرکاری سکولوں سے اضافی کتابیں نکال کر فروخت کی گئیں یا بوگس داخلوں کے ذریعے اضافی کتب منگوا کر انہیں بازار میں بیچا گیا۔

اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری کتابوں کی اس طرح فروخت محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس گھناونے دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں