سزایافتہ خاتون کی رعایت دینے کی درخواست مسترد
وفاقی قانون کے تحت ایسی رعایت کی اجازت نہیں،درخواست خارج مخصوص حالات میں حکومت صوابدیدی اختیار رکھتی ہے ،سندھ ہائیکورٹ
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے منشیات کے مقدمے میں سزا یافتہ خاتون کو جیل قوانین کے تحت رعایت دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وفاقی قانون کے تحت ایسی رعایت کی اجازت نہیں ہے ۔ جسٹس محمد سلیم جیسَر اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو پر مشتمل بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزمہ شازیہ کی آئینی درخواست خارج کردی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ کو کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینسز ایکٹ کے تحت سزا سنائی گئی، تاہم سندھ پریزن اینڈ کریکشن سروسز رولز 2019 کے تحت دستیاب رعایت انہیں نہیں دی گئی، لہٰذا عدالت جیل حکام کو رعایت دینے کا حکم دے ۔
سرکاری وکلاء نے مؤقف اپنایا کہ 2022 میں کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینسز ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے سزا میں رعایت کا حق ختم کردیا گیا ہے ، لہٰذا درخواست گزار اس سہولت کی حقدار نہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ وفاقی قانون میں واضح طور پر درج ہے کہ منشیات کے مقدمات میں سزا یافتہ افراد کو کسی بھی قسم کی رعایت نہیں دی جاسکتی، تاہم مخصوص حالات میں خواتین یا کم عمر افراد کے لیے حکومت صوابدیدی اختیار رکھتی ہے ۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر صوبائی اور وفاقی قوانین میں تضاد ہو تو آئین کے آرٹیکل 143 کے تحت وفاقی قانون کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔