میونسپل کارپوریشن : جعلی دستاویزات پر ملازمت کا انکشاف
انجینئرنگ برانچ میں تعینات بیلدار غلام مصطفیٰ کی عمر اور ریکارڈ میں واضح تضاد ،مبینہ ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو 12 سال سے نقصان پہنچا یا جا رہا ہے ، انکوائری کا حکم
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )میونسپل کارپوریشن میں ملازمین کے جعلی دستاویزات پر خدمات انجام دینے کا انکشاف ہوا ہے ، جس میں شناختی کارڈ اور سروس بک کے ریکارڈ میں بڑا تضاد سامنے آیا ہے ۔ انجینئرنگ برانچ میں اکائونٹ کلرک کی مبینہ ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو گزشتہ 12 سال سے نقصان پہنچائے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے ۔میونسپل کارپوریشن انجینئرنگ برانچ میں تعینات بیلدار غلام مصطفیٰ کی عمر اور ریکارڈ میں واضح تضاد پایا گیا ہے۔ شناختی کارڈ کے مطابق اس کی تاریخ پیدائش 1954-07-01 جبکہ سروس بک میں 1972-05-18 درج ہے ، جس کے باعث دونوں ریکارڈز میں 18 سال کا فرق سامنے آتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ ملازم ریٹائرمنٹ کی عمر مکمل ہونے کے باوجود 12 سال سے زائد عرصے تک بدستور ملازمت کر رہا ہے اور اس دوران مبینہ طور پر اضافی تنخواہیں حاصل کر کے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اکائونٹ کلرک محمد محمود کی مبینہ ملی بھگت سے ریکارڈ میں تضاد کے باوجود تنخواہوں کا اجرا جاری رہا۔ ذرائع کے مطابق جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر سروس بک میں تاریخ پیدائش تبدیل کروا کر اصل قومی شناختی کارڈ کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی گئی۔
مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مبینہ طور پر مذکورہ کلرک اس معاملے کو دبانے اور رپورٹ نہ کرنے کے عوض ماہانہ نذرانہ بھی وصول کرتا رہا، جو کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے ۔ذرائع کے مطابق ایسے مزید کیسز دیگر اداروں میں بھی موجود ہو سکتے ہیں۔اس حوالے سے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن مرتضیٰ ملک نے کہا ہے کہ معاملے کی فوری انکوائری کرائی جائے گی، اور الزامات ثابت ہونے پر بیلدار کو نوکری سے برخاست کر کے گزشتہ 12 سال کی ریکوری کی جائے گی، جبکہ ملوث کلرک کے خلاف بھی سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔