لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی سے شدید صنعتی بحران

لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی سے شدید صنعتی بحران

فیصل آباد کی انڈسٹریز بندش کے خطرے سے دوچار، لاکھوں مزدوروں کا روزگار داؤ پر لگ گیا ،را مٹیریل اور شپنگ فریٹ کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ

فیصل آباد (سٹی رپورٹر)بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر را مٹیریل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پہلے ہی مشکلات کا شکار صنعتی شعبہ اب طویل لوڈشیڈنگ کے باعث مزید بدحالی کا شکار ہونے لگا ہے ۔ آٹھ سے دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے باعث نہ صرف انڈسٹریز کی بندش کے خدشات بڑھ گئے ہیں بلکہ ان سے وابستہ لاکھوں مزدوروں کا روزگار بھی خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق پاکستان کے تیسرے بڑے اور ایک کروڑ سے زائد آبادی والے شہر فیصل آباد کو صنعتی حب کی حیثیت حاصل ہے ، تاہم حالیہ صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات، گیس، بجلی، را مٹیریل اور شپنگ فریٹ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے ۔اس کے نتیجے میں ٹیکسٹائل، ہوزری، سپننگ، پروسیسنگ اور پاور لوم سمیت مختلف صنعتوں کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ، جس سے انڈسٹریز شدید دباؤ کا شکار ہیں۔صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں اور انرجی کرائسز کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے ، جبکہ انرجی سیونگ کے نام پر کی جانے والی طویل لوڈشیڈنگ صنعتی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہے ۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ملکی صنعت کا 60 فیصد سے زائد حصہ فیصل آباد میں قائم ہے ، جہاں لاکھوں مزدور روزگار سے وابستہ ہیں۔ موجودہ حالات میں نہ صرف صنعتکار بلکہ مزدور طبقہ بھی شدید پریشانی کا شکار ہے ۔صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری شیخ فاروق یوسف اور سابق صدر ایف سی سی آئی رضوان اشرف کے مطابق پاکستان کی صنعتیں پہلے ہی خطے میں زیادہ پیداواری لاگت کے باعث مہنگی سمجھی جاتی ہیں، اور موجودہ حالات میں عالمی سطح پر مقابلہ مزید مشکل ہو گیا ہے ۔صنعتکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر مؤثر اقدامات کرے ، توانائی بحران پر قابو پایا جائے اور صنعتوں کو ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ صنعتی پہیہ چلتا رہے ، کیونکہ یہی ملکی معیشت کے استحکام اور روزگار کے مواقع کی ضمانت ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں