قومی انڈر 18 ہاکی ٹیم سلیکشن پر پرچی سسٹم کے الزامات

قومی انڈر 18 ہاکی ٹیم سلیکشن پر پرچی سسٹم کے الزامات

باصلاحیت کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا جانے کا انکشاف ،حکام نو ٹس لیں :عوامی حلقے

گوجرہ (نمائندہ دنیا )قومی انڈر 18 ہاکی ٹیم کی سلیکشن کے حوالے سے ایک بار پھر مبینہ طور پر پرچی سسٹم کے حاوی ہونے پر سوالات اٹھ گئے ہیں، جس کے باعث باصلاحیت کھلاڑیوں کو نظر انداز کیے جانے کا الزام سامنے آیا ہے ۔ اسلام آباد میں منعقدہ انڈر 18 ہاکی چیمپئن شپ میں پاکستان آرمی کی نمائندگی کرنے والے گول کیپر حسیب مصطفی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور پورے ٹورنامنٹ میں بیسٹ گول کیپر قرار پائے ۔ انہیں انعامات اور اعزازی سرٹیفکیٹ سے بھی نوازا گیا۔اسی طرح فل بیک حسن، جو پہلے بھی قومی ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں، نے بھی عمدہ کارکردگی دکھائی۔ تاہم انڈر 18 ٹیم کے لیے تشکیل دی گئی نو رکنی سلیکشن کمیٹی کے ٹرائلز اور کیمپ کے باوجود ان باصلاحیت کھلاڑیوں کے نام فائنل فہرست میں شامل نہیں کیے گئے ۔سلیکشن کمیٹی میں سمیع اللہ خان، نعیم اختر، کاشف جواد، محمد خالد، عاطف بشیر، ناصر علی، منظور الحسن، ایاز محمود اور قمر ابراہیم شامل ہیں۔

اس صورتحال پر عوامی و کھیلوں کے حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہاکی کی زبوں حالی کی بڑی وجہ میرٹ کے بجائے سفارش اور پرچی سسٹم ہے ، جس سے محنتی کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے ۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اور متعلقہ حکام صورتحال کا نوٹس لیں اور چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں، بالخصوص حسیب مصطفی اور فل بیک حسن کو فوری طور پر کیمپ میں شامل کیا جائے تاکہ میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں