لدھیوالہ :مسجد ومدرسہ کے اخراجات کیلئے مختص اراضی کا تنازع
حکم امتناع کے با وجود ہل چلا کر فصل ضائع ، شہریوں کا احتجاج‘وزیر اعلیٰ سے نوٹس کا مطالبہ
لدھیوالہ وڑائچ ،عالم چوک (نامہ نگار ، نمائندہ خصوصی )ایک سو ساٹھ سال قبل مسجد اور مدرسہ کے مالی اخراجات پورے کرنے کیلئے حاجی اشرف کے بزرگوں کی جانب سے مختص کی گئی 25 ایکڑ زرعی اراضی کو محکمہ اوقاف نے 15سال قبل اپنے نام منتقل کر لیا، عدالت سے جاری حکم امتناعی کے باوجود پولیس کی بھاری فورس کے ہمراہ ٹریکٹر چلا کر فصل ضائع کر دی ، مالکان ہارون اشرف وڑائچ و دیگر نے وزیر اعلیٰ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ۔ بتایا گیا ہے کہ لدھیوالہ کے رہائشی حاجی اشرف وڑائچ کے بزرگوں نے مقامی مسجد اور مدرسہ کے مالی اخرجات پورے کرنے کیلئے مدوخلیل اور لدھیوالہ میں 25ایکڑ زرعی اراضی مختص کی تھی جس کی آمدن سے مسجد اور مدرسہ میں اساتذہ کی تنخواہیں اور یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کی جاتی تھی۔ علما کرام اور مقامی شہریوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 2009میں محکمہ اوقاف نے نجی ہا ﺅ سنگ سوسائٹی کے ساتھ ساز باز کر کے 80کروڑ روپے سے زائد کی 25ایکڑزرعی اراضی اپنے نام ٹرانسفر کر لی تھی جس کی رٹ پٹیشن لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور سول کورٹ گوجرانوالہ سے 12جنوری تک حکم امتناعی جاری ہونے کے باوجود محکمہ اوقاف کے افسر وں نے تحصیلدار صدر حلقہ پٹواری اور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ ساڑھے آٹھ ایکڑ اراضی پر ٹریکٹر چلا کر فصل ضائع کر دی۔ لدھیوالہ کے مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔