یوسی تلونڈی عنایت خان کی تقسیم کیخلاف مکینوں کا احتجاج
سیالکوٹ (نمائندہ دنیا )نئی حلقہ بندیوں کے تحت پسرور میونسپل کمیٹی کے دائرہ کار میں اضافے اور تاریخی یونین کونسل تلونڈی عنایت خان کی تقسیم کے خلاف علاقہ مکین سراپا احتجاج بن گئے ۔
تلونڈی عنایت خان میں منعقدہ بڑے احتجاجی اجتماع میں سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور انتظامیہ کے فیصلے کو عوام دشمن قرار دیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ تلونڈی عنایت خان پسرور کی سب سے بڑی یونین کونسل ہے جو 22 دیہات اور تقریباً 22,000 کی آبادی پر مشتمل ہے ۔ نئی حلقہ بندیوں کے ذریعے اس مربوط یونین کونسل کو توڑ کر تین مختلف یونین کونسلز (بلگن، تخت پور، کلاسوالہ)اور ٹی ایم اے پسرور میں ضم کیا جا رہا ہے جو کسی صورت قبول نہیں۔احتجاج میں شریک معززین نے موقف اختیار کیا کہ موجودہ سیٹ اپ میں یونین کونسل آفس، بنیادی مرکز صحت اور ویٹرنری کلینک جیسی سہولیات عوام کو گھر کی دہلیز پر میسر ہیں۔
میونسپل کمیٹی میں شمولیت سے چھوٹے چھوٹے کاموں کیلئے بھی عوام کو پسرور شہر جانا پڑے گا جس سے وقت اور پیسے کا ضیاع ہوگا۔شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ شہری حدود میں شامل ہونے سے مقامی آبادی پر بھاری ٹیکسوں اور پیچیدہ شہری قوانین کا بوجھ ڈال دیا جائے گا جس کی وہ سکت نہیں رکھتے ۔اہلیانِ تلونڈی عنایت خان نے ایم این اے علی زاہد خا ن اور ایم پی اے رانا فیاض سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے اور تلونڈی عنایت خان کی پرانی حیثیت کو بحال رکھا جائے تاکہ علاقہ مکین مزید مشکلات اور احساسِ محرومی سے بچ سکیں۔