نجی سکولوں میں نئے تعلیمی سال کا آغاز، مہنگی کتابیں بوجھ
گوجرانوالہ(نیوز رپورٹر)بیشتر نجی سکولوں میں سالانہ امتحانات کے انعقاد کے بعد نئے تعلیمی سال کا آغاز کردیا گیا ،
پرائیویٹ سکولوں کی مہنگی کتابیں اور سٹیشنری نے والدین کو چکرا کر رکھ دیا جس پر والدین تشویش میں مبتلا ہوگئے ۔بتایا گیا ہے کہ نجی سکولوں میں سالانہ امتحانات کے بعد نئی کلاسز کا آغاز ہو گیا ہے ، گوجرانوالہ شہر اور گردونواح کے علاقوں میں پرائیویٹ سکولوں کی بھرمار ہے جو نئی کلاس میں جانے والے بچوں کو سکول سے ہی کتابیں خریدنے پر مجبور کرتے ہیں ۔اکثر نے تو سکول میں ہی بک شاپس بنا رکھی ہیں ،ہر سکول کی اس کے نام سے کاپیاں تیار کی جاتی ہیں جس پر بچے وہ کاپی خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں کاپی پر اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ۔دکاندار من مانے نرخ پر کاپی فروخت کرتے ہیں جبکہ والدین کو مجبوری میں خریدنا پڑتی ہیں جبکہ کتابوں کے لیے سکول کی جانب سے سلیکٹیڈ شاپس کا بتایا جاتا ہے جہاں سے کتابیں دکاندار کے ریٹ پر فروخت ہوتی ہیں۔اکثر نجی سکولوں کی جانب سے سکول کے نام والا بیگ خریدنے کا بچوں کو کہا جاتا ہے ،چھوٹی کلاس کے طالبعلم کیلئے کتابوں کاپیوں اور بیگ کا خرچہ پندرہ سے بیس ہزار روپے تک ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے والدین پریشان ہیں۔والدین کا کہنا ہے کہ اتنی مہنگی کتابیں اور کاپیاں ہیں کہ وہ ادھار لینے پر مجبور ہیں۔والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ نجی اور سرکاری سکولوں کا نصاب ایک جیسا ہونا چاہیے تاکہ عام دکانوں سے بھی کتابیں اور کاپیاں کنٹرول ریٹ پر مل سکیں،نجی سکولوں سے کتابوں اور کاپیوں کی فروخت پر پابندی ہونی چاہیے ۔