سندھ ہائیکورٹ کا ادارہ ترقیات کے افسران کی تنخواہوں کی ضبطی ختم کرنے کا حکم
اسائنی تنخواہیں ڈی ٹیچ کرے ،فریقین کو احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا،تنخواہوں کی ضبطی سے کوئی مفید مقصد حاصل نہیں ہوگا، انتظامی امور،واجبات کی ادائیگی متاثر ہو سکتی ،عدالت
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے افسران کی تنخواہوں کی ضبطی ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے آفیشل اسائنی کو ہدایت کی کہ وہ فوری تنخواہیں ڈی ٹیچ کرے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ فریقین کو پہلے سے دی گئی مہلت کے اندر عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ 27 اکتوبر 2025 کے حکم کے ذریعے کم از کم 25 فیصد قابل ادا رقم چار ہفتوں میں جاری کرنے یا بصورت دیگر ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر فنانس اور دیگر متعلقہ افسران کے ڈی اے کی تنخواہیں منسلک کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ بعد ازاںآفیشل اسائنی کو کارروائی بڑھانے کی ہدایت دی گئی۔ آفیشل اسائنی نے متعلقہ حکام اور بینکوں کو تنخواہوں کی ضبطی کیلئے خطوط ارسال کیے اور 23 دسمبرکو تعمیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ 18 فروری 2026 کے حکم کے تحت دو ماہ کی مزید مہلت دی گئی تھی۔ ڈی جی کے ڈی اے نے 23 فروری 2026 کے خط کے ذریعے افسران کی فہرست فراہم کرتے ہوئے ضبط شدہ تنخواہیں جاری کرنے کی درخواست کی۔ اسائنی نے یہ تمام صورتحال عدالت کے روبرو رکھ کر مناسب حکم جاری کرنے کی استدعا کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ تنخواہوں کی ضبطی سے کوئی مفید مقصد حاصل نہیں ہوگا بلکہ محکمہ کے انتظامی امور اور واجبات کی ادائیگی کیلئے فنڈز کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے ۔ عدالت کی جانب سے شرط عائد کی گئی کہ فریقین کو پہلے سے دی گئی مدت کے اندر عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔