نیشنل ایکشن پلان کی تجدید:ایک آئینی اور قومی تقاضا

نیشنل ایکشن پلان کی تجدید:ایک آئینی اور قومی تقاضا

دسمبر 2014ء میں نیشنل ایکشن پلان کی منظوری ملک کی آئینی اور سیاسی تاریخ کا اہم سنگِ میل اور ایک فیصلہ کن لمحہ تھا۔ 16

 دسمبر 2014ء کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے اندوہناک دہشت گرد حملے کے بعد پوری قوم نے غیر معمولی اتحاد ’ یکجہتی اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ پارلیمان’ صوبائی حکومتوں’ ریاستی اداروں اور تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت نے اجتماعی طور پر ایک جامع’ مربوط اور ہمہ جہت فریم ورک کی توثیق کی جس کا بنیادی مقصد دہشت گردی کا مکمل خاتمہ’ انتہا پسندی کا سدباب اور قومی یکجہتی وہم آہنگی کو مضبوط بنانا تھا۔ یہ تاریخی اتفاقِ رائے پاکستان کی جمہوری قوتوں کی سیاسی پختگی اور اس اجتماعی شعور کی عکاسی کرتا ہے کہ شدت پسندی اور دہشت گردی ملک کے آئینی نظام ’ ریاستی رِٹ اور سماجی استحکام کیلئے نہایت سنگین خطرہ بن چکی ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان کسی رسمی یا علامتی اعلامیے کے طور پر مرتب نہیں کیا گیا بلکہ یہ ایک سنجیدہ قومی عہد وعزم تھا۔ اس میں ایک کثیر جہتی حکمت عملی کا تصور پیش کیا گیا جس میں سکیورٹی آپریشنز ’ قانونی وآئینی اصلاحات’ مالیاتی نگرانی اور ضابطہ کاری’ تعلیمی شمولیت واصلاح’ ادارہ جاتی مضبوطی اور قومی بیانیے کی تشکیل کو یکجا کیا گیا۔ اس منصوبے کو آئینی بنیاد اور قانونی قوت ریاست کی اس ذمہ داری سے حاصل ہوئی جو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 9 (تحفظِ جان) اور آرٹیکل 14 (وقارِ انسانیت اور نجی زندگی کے احترام) کے تحت عائد ہوتی ہے ۔ چنانچہ وفاقی حکومت اور تمام صوبائی حکومتوں پر’ اپنے اپنے آئینی دائرہِ اختیار کے اندر’ لازم تھا کہ وہ اس دستاویز کے ہر ایک نکتے کو سنجیدگی’ مستقل مزاجی’ مکمل ہم آہنگی اور تسلسل کے ساتھ نافذ کریں۔

پاکستان کا وفاقی آئینی ڈھانچہ باہمی تعاون اور اشتراکِ عمل پر مبنی گورننس کا تقاضا کرتا ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان کے متعدد اجزا بالخصوص پولیسنگ’ استغاثہ’ ضلعی ومقامی انتظامیہ اور تعلیمی امور سے متعلق اقدامات اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد بڑی حد تک صوبائی دائرہِ اختیار میں آ چکے ہیں۔ لہٰذا اس منصوبے کے مؤثر اور نتیجہ خیز نفاذ کیلئے ایک ہم آہنگ وفاقی وصوبائی حکمتِ عملی ناگزیر تھی’ جو مشترکہ معیارات’ واضح اہداف اور مربوط نگرانی کے نظام سے رہنمائی لے ۔ حکومتوں پر یہ بھی لازم تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کا سالانہ جائزہ ایک منظم’ باضابطہ اور شفاف طریقہ کار کے تحت لیا جائے اور اس عمل میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو شامل کیا جائے تاکہ قومی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی جماعتی اختلافات اور سیاسی تقسیم سے بالاتر رہے ۔

اگرچہ گزشتہ برسوں میں سکیورٹی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے ’ تاہم بعض بنیادی اور ساختی اصلاحات کا نفاذ اُس ہم آہنگی’ رفتار اور تسلسل کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکا جس کا ویژن پیش کیا گیا تھا۔ آج اصل چیلنج نیشنل ایکشن پلان کی افادیت پر سوال اٹھانے کا نہیں بلکہ اس کے مکمل’ مربوط اور جامع نفاذ کے عزم کی تجدید کا ہے ۔ طرزِ حکمرانی میں موجود خلا بدستور ایک بنیادی تشویش ہے ۔ سکیورٹی کامیابیاں اُس وقت تک دیرپا ثابت نہیں ہو سکتیں جب تک ریاستی ادارے جوابدہ’ خدمات کی فراہمی مؤثر’ انتظامیہ شفاف اور احتساب کے نظام کے تابع نہ ہو۔ اس تناظر میں مقامی حکومت کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ مقامی حکومتوں کے نظام کی بحالی و استحکام’ ضلعی انتظامیہ کو بااختیار بنانا اور مختلف محکموں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کو فروغ دینا وہ بنیادی اقدامات ہیں جو قومی پالیسی کو عملی طور پر نچلی سطح تک مؤثر بناتے ہیں۔

شفافیت جدید جمہوری حکمرانی کا بنیادی ستون ہے ۔ عوامی اعتماد اُس وقت مستحکم ہوتا ہے جب پالیسی کے نفاذ کی کارکردگی واضح’ قابلِ پیمائش اور عوام کیلئے قابلِ رسائی ہو۔ لہٰذا ضروری ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونے والی پیشرفت کو باضابطہ طور پر دستاویزی شکل دی جائے ۔ اس کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور واضح ٹائم لائن کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کیا جائے ۔ نفاذی رپورٹس کی اشاعت’ کارکردگی کے اشاریوں کا تعین اور سالانہ اہداف کی نشاندہی نہ صرف احتسابی نظام کو مضبوط بنائے گی بلکہ ریاست کی آئینی ذمہ داریوں سے وابستگی پر عوامی اعتماد کو بھی مستحکم کرے گی۔ نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم پہلو تعلیمی اصلاحات اور فکری ونظریاتی مکالمے سے متعلق ہے ۔ پاکستان کے دینی مدارس نے علمی خدمات’ اخلاقی تربیت اور سماجی بہبود میں صدیوں سے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اصلاحات کا مقصد کبھی بھی ان اداروں کی خودمختاری کو مجروح کرنا نہیں رہا بلکہ ریاست اور مذہبی اداروں کے درمیان تعمیری تعاون کو فروغ دینا تھا تاکہ انتظامی شفافیت’ رجسٹریشن کا مؤثر نظام اور نصاب میں ہم آہنگی کے ذریعے طلبہ کیلئے جدید اور بہتر مواقع پیدا کیے جا سکیں جبکہ مذہبی آزادی اور خودمختاری کا مکمل احترام برقرار رہے ۔ اس مقصد کے حصول کیلئے مکالمے اور باہمی اعتماد پر مبنی حکمتِ عملی ہی مؤثر اور دیرپا نتائج دے سکتی ہے ۔

عدالتی اصلاحات نیشنل ایکشن پلان کے ویژن کا ایک ناگزیر اور بنیادی ستون ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کیلئے ایک ایسا جدید فوجداری نظامِ انصاف ضروری ہے جو بروقت اور معیاری فیصلوں’ پیشہ ورانہ اور سائنسی بنیادوں پر تفتیش اور مضبوط و مؤثر استغاثہ کی صلاحیت رکھتا ہو۔ فرانزک سائنس کی صلاحیت میں اضافہ’ عدالتوں کے انتظامی نظام کی ڈیجیٹائزیشن’ ججوں’ تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹرز کی خصوصی تربیت اور گواہوں کے تحفظ کے جامع نظام کا قیام ایسی اصلاحات ہیں جو نہ صرف انسدادِ دہشت گردی کے مقدمات بلکہ پورے نظامِ انصاف کو مضبوط بناتی ہیں۔ وسیع تر عدالتی کارکردگی’ شفافیت اور گورننس کی اصلاح قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنے کیلئے کلیدی اہمیت رکھتی ہے ۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ایک نئی’ جامع’ مربوط اور منظم مہم کا آغاز کیا جائے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مشترکہ طور پر اس عزم کی تجدید کرنی چاہیے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات کو بلا امتیاز’ مکمل سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ نافذ کریں گی۔ ایک منظم اور باضابطہ سالانہ جائزہ نظام’ جو ممکنہ طور پر پارلیمان یا مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے قائم کیا جائے ’ پیشرفت کا جائزہ لے ’ درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرے اور ضرورت کے مطابق حکمتِ عملی میں اصلاح وتجدید کرے ۔ اس عمل میں بڑی سیاسی جماعتوں کی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ قومی سلامتی اور آئینی استحکام کے معاملات پر قومی یکجہتی برقرار رہے ۔ مزید برآں عوامی طور پر دستیاب ایک جامع اور واضح روڈ میپ’ جس میں متعین ٹائم لائنز’ قابلِ پیمائش اہداف اور کارکردگی کے اشاریے شامل ہوں’ نیشنل ایکشن پلان کو محض پالیسی کے بیان سے عملی اور قابلِ نفاذ حقیقت میں تبدیل کر سکتا ہے ۔ شفاف کارکردگی رپورٹنگ اس امر کو یقینی بنائے گی کہ گورننس کی اصلاح’ عدالتی جدید کاری اور ادارہ جاتی مضبوطی سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ ہم قدم آگے بڑھیں۔ گورننس کے ڈھانچے اور عدالتی نظام کی اصلاح کوئی ثانوی یا ضمنی ہدف نہیں بلکہ نیشنل ایکشن پلان کی پائیدار اور دیرپا کامیابی کا مرکزی ستون ہے ۔ انتہاپسندی’ دہشت گردی اور آئینی کمزوریوں سے نمٹنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان ایک جامع قومی فریم ورک ہے ۔ اس کی روح اتحاد’ اجتماعی ذمہ داری اور مشترکہ قومی مقاصد پر مبنی ہے ۔ گورننس کے خلا کو پُر کر کے ’ مقامی اداروں کو فعال وبااختیار بنا کر’ شفافیت کو فروغ دے کر اور سالانہ مربوط وجماعتی شمولیت پر مبنی جائزوں کو ادارہ جاتی شکل دے کر پاکستان اس اہم قومی عہد کی حقیقی معنوں میں تجدید کر سکتا ہے ۔ آئینِ پاکستان ریاست کو انسانی جان’ وقارِ انسانیت اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کا پابند بناتا ہے ۔ اس آئینی ذمہ داری کی تکمیل کیلئے وقتی ردِعمل یا عارضی عزم کافی نہیں بلکہ مستقل مزاجی’ ادارہ جاتی نظم وضبط اور اجتماعی سیاسی وابستگی درکار ہے ۔ مکمل طور پر نافذ شدہ، شفاف نگرانی کے تحت اور اجتماعی طور پر اختیار کیا گیا نیشنل ایکشن پلان مستحکم حکمرانی’ مؤثر عدالتی اصلاحات اور دیرپا امن کیلئے سنگِ بنیاد ثابت ہو سکتا ہے ۔ حالات ہم سے ہم آہنگی’ شفافیت اور نئے عزم کے متقاضی ہیں تاکہ 2014ء میں کیا گیا قومی عہد اس کی روح کے ساتھ پورا کیا جا سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں