ڈسکہ :مٹی کے برتنوں کی خرید و فروخت میں اضافہ
صنعت تقریباً ختم ہو چکی تھی ، چند برسوں سے استعمال بڑھ رہا :کاریگر
منڈیکی گورائیہ(نامہ نگار )ڈسکہ اور گرد و نواح میں مٹی کے برتنوں کی خرید و فروخت میں اضافہ ہوگیا،انسان پتھر کے زمانے سے لیکر آج کے جدیداور ترقیاتی زمانے تک کھانے پینے کیلئے برتنوں کا مرہون منت رہا ہے ، بادشاہوں نے سونے اور چاندی کے قیمتی برتن بھی استعمال کئے جبکہ موجودہ جدید دور میں سلور سٹیل پیتل تانبے شیشے اور پلاسٹک کے بعد کھانا فوری تیار کرنے کیلئے پریشر ککر اور الیکٹرانک برتنوں میں اوون اور الیکٹرک تنوروں تک پہنچ چکا ہے جو بیک وقت ہزاروں افراد کے کھانے کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہیں جدید تحقیقات کے مطابق ان برتنوں میں کھانا گلتا ہے پکتا نہیں جبکہ مٹی کے برتن میں کھانا آہستہ آہستہ پکتا ہے جو کسی بھی سائیڈ افیکٹ سے پاک ہوتا ہے اور لوگ ایک بار پھر مٹی کے برتنوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ علاقہ بھر میں درجنوں بھٹیوں میں ہاتھ سے ہر قسم کے برتن بنائے جاتے ہیں پختہ اور مضبوط برتنوں کیلئے چکنی مٹی استعمال ہوتی ہے ۔ کاریگروں نے بتایاکہ ایک دفعہ تو یہ صنعت تباہی کے دہانے پر تک پہنچ گئی تھی مگر چند سالوں سے مٹی کے برتنوں کے استعمال میں ایک بار پھر حوصلہ افزا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو گھر چلانے میں آسانی ہوئی ہے حکومت اس صنعت کی سرپرستی کرے تو بھاری زرمبادلہ کمایاجاسکتا ہے ۔