آم کی برآمدات کا آغاز، پہلی کھیپ روانہ
ایران کیلئے زمینی راستے سے 200 ٹن آم بھیجے جائیں گے ،سمندری راستے آم کی پہلی بڑی کھیپ 5 جون کو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے روانہ کی جائے گی
سرگودھا (سٹاف رپورٹر )سرگودھا سمیت ملک بھر سے آم کی برآمدات کا باقاعدہ آغاز آج یکم جون سے ہو گیا ہے ۔ ابتدائی مرحلے میں فضائی راستے سے 400 ٹن آم کی پہلی کھیپ روانہ کر دی گئی ہے ، جبکہ ایران کے لیے زمینی راستے سے 200 ٹن آم بھی بھیجے جائیں گے ۔ذرائع کے مطابق سمندری راستے سے آم کی پہلی بڑی کھیپ 5 جون کو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے روانہ کی جائے گی، جس میں تقریباً 4 ہزار ٹن آم شامل ہوں گے ۔ حکومت نے رواں سال ایک لاکھ ٹن آم برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ، جس سے تقریباً ساڑھے 8 کروڑ ڈالرز زرمبادلہ حاصل ہونے کی توقع ہے ۔موسمی تبدیلیوں اور پیداوار میں تاخیر کے باعث اس سال آم کی برآمدات کا آغاز معمول سے تاخیر سے ہوا ہے۔
ماضی میں یہ عمل عموماً مئی کے وسط میں شروع ہو جاتا تھا، تاہم وزارتِ تجارت کے نوٹیفکیشن کے مطابق اس بار برآمدات یکم جون سے شروع کی گئی ہیں۔اس حوالے سے ڈائریکٹر پاکستان ہارٹی کلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ بورڈ، وزارتِ تجارت اور سابق صدر سرگودھا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری چودھری شعیب احمد بسرا نے بتایا کہ پاکستانی آم کو مکمل طور پر قدرتی طریقے سے پکنے کے بعد عالمی منڈیوں میں بھیجا جاتا ہے تاکہ معیار برقرار رکھا جا سکے ۔انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث فضائی اور بحری کرایوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ، جس سے برآمد کنندگان کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ ایکسپورٹرز نے بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ اخراجات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔