سیالکوٹ چیمبر نے وفاقی بجٹ کو مایوس کن قرار دیدیا
نئے ٹیکسوں سے برآمدات میں کمی کا خدشہ، بجٹ پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ صنعتی سرگرمیوں میں سست روی‘ اثرات روزگار اور معیشت پر بھی مرتب ہونگے
سیالکوٹ (نمائندہ دنیا )سیالکوٹ چیمبر آف کامرس نے وفاقی بجٹ مسترد کر دیا، برآمدات میں شدید کمی کا خدشہ،وفاقی بجٹ پر تاجر برادری کے تحفظات سامنے آنا شروع ہو گئے ۔ سیالکوٹ ایوانِ صنعت و تجارت نے نئے بجٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت اور برآمدی شعبے کیلئے مایوس کن قرار دیا ہے ۔چیمبر کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بجٹ میں برآمدی صنعت کو مطلوبہ سہولیات فراہم نہیں کی گئیں جبکہ نئے ٹیکسوں اور پالیسیوں سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں اپنی مسابقت کھو سکتی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صنعتکاروں اور برآمد کنندگان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو ملک کی برآمدات میں نمایاں کمی اور صنعتی سرگرمیوں میں سست روی کا خدشہ ہے جسکے اثرات روزگار اور مجموعی معیشت پر بھی مرتب ہونگے ۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ پر نظرثانی کرتے ہوئے کاروباری برادری اور برآمدی شعبے کے تحفظات کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے تاکہ ملکی معیشت کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے ۔