سیالکوٹ میں مزدوروں کو مقررہ کم از کم اجرت نہ ملنے کی شکایات

سیالکوٹ میں مزدوروں کو مقررہ کم از کم اجرت نہ ملنے کی شکایات

سیالکوٹ (نمائندہ دنیا) وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے عام مزدور کے لیے 40ہزار روپے ماہانہ کم از کم تنخواہ مقرر کرنے کا حکم سیالکوٹ، ڈسکہ، پسرور، سمبڑیال اور گردونواح میں مؤثر طور پر نافذ نہ ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مزدوروں کو 500سے 700روپے یومیہ اجرت دے کر کام کروایا جا رہا ہے ، جبکہ بعض کاروباری مراکز میں ماہانہ تنخواہیں بھی 15سے 20 ہزار روپے تک محدود ہیں۔ہوٹلوں، پٹرول پمپوں، چائے کی دکانوں، کریانہ سٹورز، ورکشاپوں، گارمنٹس کی دکانوں اور دیگر کاروباری مراکز میں کم عمر بچوں، نوجوانوں اور بے روزگار افراد سے کم اجرت پر 12سے 16گھنٹے تک کام لینے کی شکایات ہیں۔شکایات میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ محکمہ محنت کے بعض اہلکار مبینہ طور پر ماہانہ وصولیوں کے باعث مزدوروں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہیں۔سیاسی، سماجی اور رفاہی تنظیموں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور کمشنر گوجرانوالہ سید نوید حیدر شیرازی سے مطالبہ کیا ہے کہ مزدوروں کو حکومتی اعلان کے مطابق کم از کم اجرت کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...