جڑواں شہروں میں 16لاکھ سے زائد موٹرسائیکل،ایم ٹیگ کیلئے صرف14دن:روزہ دار شہری دن بھر خوار
اسلام آبادمیں 13سینٹرز ، محدود اہلکار، موٹر سائیکل ٹیگز غیر محفو ظ ،کوئی بھی آسانی سے اتار سکتاہے :شہریگاڑی مالکان کیلئے شرائط نرم، موٹرسائیکل کیلئے اصل مالک کی موجودگی لازمی، تاریخ دوماہ تک بڑھانے کامطالبہ
اسلام آباد (سید قیصر شاہ )جڑواں شہروں میں کم وبیش 16لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکل ہیں جبکہ شہر اقتدارمیں داخلے کیلئے ایم ٹیک لگوانا ضرور ی قراردیا گیا ہے اور شہریوں سے کہا گیا ہے کہ چودہ دنوں میں ایم ٹیگ لگوالئے جائیں اس کے بعد بغیر ایم ٹیگ موٹرسائیکل اسلام آباد میں داخل نہیں ہوسکیں گے ۔ دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ اسلام آباد میں ایم ٹیگ لگوانے کیلئے 13 سینٹرز اور محدود اہلکارہیں، ماہ رمضان میں شہری دن بھر عبادت کرنے کے بجائے دھوپ میں قطاروں میں لگنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ایکسائز ڈیٹا کے مطابق راولپنڈی میں تقریباً 10 لاکھ سے زائداوراسلام آباد میں 6 لاکھ سے زائد موٹرسائیکل رجسٹرڈہیں ۔
شہریوں نے بتایاکہ ایم ٹیگ کے لیے دہرا معیار اپنایا گیا ہے ، گاڑیوں کے مالکان کے لیے ایم ٹیگ کی شرائط نسبتاً نرم ہیں جبکہ موٹر سائیکل کے لیے اصل مالک کی سینٹر پر موجودگی لازمی قرار دی گئی ہے جوغیر منطقی ہے ۔ہر سینٹر پر پورے دن میں ایک ٹریفک اہلکار ایم ٹیگ لگانے کے لیے موجود ہے اور ایک سینٹر سے روزانہ ڈیڑھ سے دو ہزار بائیکس سٹیکر حاصل کر سکتے ہیں۔ اس حساب سے پانچ مارچ تک صرف چالیس سے پچاس ہزار موٹر سائیکل ایم ٹیگ حاصل کر پائیں گے جبکہ پانچ مارچ ایم ٹیگ کی آخری ڈیڈ لائن ہے ، جس سے واضح ہوتا ہے کہ 16 لاکھ بائیکس پر ایم ٹیگ لگانا تقریباً ناممکن ہے ۔فیس کی مد میں شہریوں کی جیب سے تقریباً 40کروڑ روپے نکل جائیں گے اور پانچ مارچ کے بعد ایم ٹیگ نہ ہونے والی بائیکس پر روزانہ بھاری جرمانوں کے ذریعے بھی کروڑوں روپے ماہانہ وصول کیے جا ئیں گے جو غریب عوام پر ظلم کے مترادف ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکلوں پر لگائے جانیوالے ٹیگز غیر محفو ظ ہیں کوئی بھی انہیں آسانی سے اتار سکتا ہے یا پھر یہ پھٹ سکتے ہیں ۔عوام نے سخت تنقید کی کہ یہ سٹیکر دراصل سکیورٹی کے لیے نہیں بلکہ ٹول ٹیکس کی جلد وصولی کے لیے لگایا جا تاہے ، بارش، پارکنگ یا سروس کے دوران سٹیکر اترنے یا چوری ہونیکا خدشہ رہتا ہے جس کے بعد دوبارہ لگانا پڑے گا۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو ذلیل و خوار اوردھوپ میں قطاروں میں کھڑا کرکے اذیت نہ دی جا ئے ، غیر ضروری شرائط ختم کی جائیں، طریقہ کار آسان بنایا جائے اور ایم ٹیگ لگوانے کی ڈیڈ لائن کم از کم دو ماہ بڑھائی جائے تاکہ سولہ لاکھ موٹر سائیکل آسانی سے سٹیکر حاصل کر سکیں۔