سپر ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ حکومت اور ایف بی آر مؤقف کی توثیق

سپر ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ حکومت اور ایف بی آر مؤقف کی توثیق

مختلف ہائی کورٹس میں جاری کئی برسوں پر محیط مقدمات کا خاتمہ بھی ممکن ہو گیا

اسلام آباد(دنیارپورٹ)وفاقی آئینی عدالتِ نے تاریخی فیصلے میں میسرز ڈی جی خان سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ وغیرہ بنام وفاق پاکستان مقدمہ اور اس سے متعلق اپیلوں میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات B 4اور C 4کے تحت عائد کردہ سپر ٹیکس کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا۔اس فیصلہ سے حکومتِ پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مؤقف کی توثیق ہوئی ہے جبکہ مختلف ہائی کورٹس میں جاری کئی برسوں پر محیط مقدمات کا خاتمہ بھی ممکن ہو گیا ہے ۔تقریباً 300 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں عدالت نے ٹیکسیشن سے متعلق متعدد پیچیدہ مسائل کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ B 4 جو فنانس ایکٹ 2015 کے تحت عارضی طور پر بے گھر افراد کی بحالی کے لیے ٹیکس سال 2015 تا 2022 کے لیے متعارف کرائی گئی اور دفعہ C 4جو فنانس ایکٹ 2022 کے تحت ٹیکس سال 2022 سے \"زیادہ آمدن رکھنے والے افراد\" پر نافذ کی گئی) کے تحت عائد سپر ٹیکس آئینِ پاکستان کی وفاقی قانون ساز فہرست کے اندراج 47 کے تحت پارلیمان کے ٹیکس عائد کرنے کے اختیار کا جائز استعمال ہے ، کیونکہ یہ آمدن پر ٹیکس ہے ۔دفعہ B 4کے حوالے سے عدالت نے یہ مؤقف مسترد کیا کہ یہ ٹیکس نہیں بلکہ فیس ہے اور قرار دیا کہ کسی مقصد کا ذکر محض اسے فیس نہیں بنا دیتا جب تک کہ کسی مخصوص فائدہ اٹھانے والے کے ساتھ براہِ راست خدمات کا تعلق موجود نہ ہو۔ وفاقِ اور ایف بی آر کی نمائندگی عاصمہ حمید (ASC)نے کی، جبکہ سینئر وکلاء رضا ربانی، اشتر اوصاف علی اور ڈاکٹر شاہ نواز میمن نے سپر ٹیکس سے متعلق معاملات میں آئینی دفاع پیش کیا۔ ٹیکس دہندگان کی جانب سے ممتاز وکلاء مخدوم علی خان، خالد جاوید خان، ڈاکٹر فروغ نسیم، راشد انور، سلمان اکرم راجہ، شہزاد الٰہی اور محمود مرزا پیش ہوئے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں