خواتین کیخلاف تشدد کے خاتمہ کیلئے مربوط قانون سازی ضروری

خواتین کیخلاف تشدد کے خاتمہ کیلئے مربوط قانون سازی ضروری

صنفی بنیاد پر تشدد اور ہراساں کرنے کے کیسز اب زیادہ رپورٹ کیے جا رہے ،فوزیہ وقار

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی محتسب برائے ہراسانی فوزیہ وقار اور چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن (این سی ایس ڈبلیو) نورین بانو لہری نے زور دیا ہے کہ خواتین کے تحفظ کے اداروں کے لئے مناسب وسائل، بیرونی نگرانی کے ساتھ انسداد ہراسانی کی آزاد کمیٹیوں اور مضبوط احتسابی میکانزم کے بغیر تشدد پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔انہوں نے سخت قانون کے نفاذ، ڈیجیٹل گورننس میں اصلاحات، مربوط کارروائی، سائبر ہراسا نی پر قابو پانے ، صنفی حساسیت اور غیر قانونی جرگہ نظام کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ فار پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ (فوسپاہ ) اور نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن (این سی ایس ڈبلیو) ملک بھر میں خواتین کے تحفظ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کے لیے اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی اجتماعی کوششیں جاری رکھیں گے ۔ فوزیہ وقار نے کہا کہ صنفی بنیاد پر تشدد اور ہراساں کرنے کے کیسز اب زیادہ باقاعدگی سے رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اداروں کو ان مقدمات کو بروقت آگے بڑھانے کے لیے مناسب وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں