غیر معیاری ویکسین ، ریبیز، سے لڑکا جاں بحق
نیو کراچی کے علاقے علی گوٹھ کے رہائشی 14 سالہ علی فہد کو 26 مئی کو تشویشناک حالت میں جناح اسپتال لایا گیا تھا،رواں سال اموات 10 ہوگئیںبچے کو کتے کے کاٹنے کے بعد عباسی شہید اسپتال میں اینٹی ریبیز ویکسین دی گئی تھی، اہلخانہ کا موقف،مختلف اسپتالوں میں 20ہزار سے زائد کیسز رپورٹ
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)شہر قائد میں ریبیز کی ویکسین لگنے باوجود نیو کراچی کے علاقے علی گوٹھ کا رہائشی 14 سالہ معصوم بچہ زندگی کی بازی ہار گیا۔ تفصیلات کے مطابق شہرِ قائد میں آوارہ کتوں کی بہتات اور انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث کتے کے کاٹنے سے ہونے والی جان لیوا بیماری ’’ریبیز‘‘ کا ایک اور افسوسناک کیس سامنے آیا۔نیو کراچی کے علاقے علی گوٹھ کا رہائشی 14 سالہ معصوم بچہ علی فہد زندگی کی بازی ہار گیا، جس کے بعد رواں سال شہر میں ریبیز سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 10 تک پہنچ گئی ہے ۔جناح اسپتال کے ڈاکٹر عرفان صدیقی نے بتایا کہ 14 سالہ علی فہد کو 26 مئی کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا جہاں اس میں ریبیز کی واضح اور خطرناک علامات پائی گئیں اور وہ اسی روز انتقال کر گیا۔بچے کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ بچے کو کتے کے کاٹنے کے بعد عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں اسے اینٹی ریبیز ویکسین بھی دی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود بچے میں علامات کا ظاہر ہونا اور جاں بحق ہو جانا ویکسین کے معیار یا بروقت فراہمی پر بڑا سوالیہ نشان ہے ۔سندھ کے سب سے بڑے شہر میں صورتحال اس وقت انتہائی بھیانک شکل اختیار کر چکی ہے۔
طبی ذرائع کے مطابق رواں سال اب تک شہر کے مختلف اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کے 20 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔کتے کے کاٹنے سے ہونے والی جان لیوا بیماری ریبیز کے اب تک 10 کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے 4 کیسز جناح اسپتال اور 6 کیسز انڈس اسپتال میں رپورٹ ہوئے جبکہ ریبیز کا شکار ہونے والا کوئی بھی مریض جانبر نہیں ہو سکا۔شہریوں نے سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں فوری طور پر آوارہ کتا مار یا سدِ باب مہم شروع کی جائے تاکہ مزید معصوم بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکے ۔دوسری جانب طبی ماہرین کے مطابق چھوٹے بچے کتوں کا آسان ہدف ہیں، متاثرہ جگہ کو فوراً صاف پانی اور صابن سے دھوئیں تاکہ مٹی یا جراثیم دور ہو جائے ۔زخم کو خشک کرنے کے بعد اگر ممکن ہو تو اینٹی سیپٹک کریم لگائیں اور زخم پر بینڈیج باندھ دیں۔فوراً کسی ڈاکٹر یا اسپتال سے رجوع کریں، خاص طور پر اگر کتا آوارہ ہو۔ اگر کتا مشکوک ہو تو ڈاکٹری مشورے کے مطابق ریبیزکی ویکسینیشن بھی ضروری ہو سکتی ہے ۔اپنے ٹیکوں کی تاریخ دیکھیں، خاص طور پر ٹیٹنس کی ویکسین۔