سیلابی الرٹ کے باوجود سینکڑوں خستہ حال عمارتیں خالی نہ کرائی جا سکیں

سیلابی الرٹ کے باوجود سینکڑوں خستہ  حال عمارتیں خالی نہ کرائی جا سکیں

راولپنڈی (اے پی پی) مون سون کے آغاز اور نشیبی علاقوں میں سیلابی الرٹ کے باوجود راولپنڈی میں سینکڑوں خستہ حال اور خطرناک قرار دی گئی رہائشی عمارتیں تاحال خالی نہیں کرائی جا سکیں جس کے باعث ان میں مقیم سینکڑوں خاندانوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں۔

راولپنڈی میٹروپولیٹن کارپوریشن، چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ، ڈسٹرکٹ کونسل اور متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے خطرناک عمارتوں کے مکینوں کو متعدد بار نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں تاہم عمارتیں خالی کرانے کے لیے مثر اقدامات نہیں کیے جا سکے ۔ بیشتر خستہ حال عمارتیں 120 سے 170 سال پرانی ہیں۔ ان میں سے کئی دو اور تین منزلہ جبکہ بعض بعد میں کی جانے والی تعمیرات کے باعث چار منزلہ ہو چکی ہیں۔ متعدد عمارتوں میں چار سے پانچ خاندان رہائش پذیر ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہ خستہ حال عمارتیں بوہڑ بازار، غزنی روڈ، لال حویلی، پرانا قلعہ، ڈنگی کھوئی، باغ سرداراں، راجہ بازار، بھابڑا بازار، کرتارپورہ، اندرون موتی بازار، مغل سرائے ، صدر چھوٹا بازار اور دیگر گنجان آباد علاقوں میں واقع ہیں۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...