پمز ، ون پیشنٹ ون آئی ڈی منصوبہ میعاد گزرنے پر بھی نامکمل

 پمز ، ون پیشنٹ ون آئی ڈی منصوبہ میعاد گزرنے پر بھی نامکمل

پمز کارڈیک سینٹر میں منصوبہ پر عملدرآمد کیلئے تاریخ 31اکتوبر مقرر کر دی گئی

اسلام آباد (نیوز رپورٹر )وزارت صحت کے ایک ارب روپے کے ون پیشنٹ ون آئی ڈی منصوبے کی مدت 30 جون کو مکمل ہونے کے باوجود تاحال پمز کارڈیک سینٹر سمیت متعدد شعبوں کو پیپر لیس اور ڈیجیٹلائزیشن کرنے کا منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا ، وزارت نے پمز کارڈیک سینٹر میں منصوبے پر عمل درآمد کے لیے 31 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے ، تاہم منصوبے کے ڈائریکٹر کے مطابق ہسپتال حکام کی جانب سے پیپر لیس کیے جانے کے لیے پالیسی تبدیلی سے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں ، این آئی ٹی بی کی جانب سے ہسپتال انتظامیہ کو اس منصوبے کے سورس کوڈز اور ٹیکنیکل تک رسائی بھی ایک اہم سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے ، این آئی ٹی بی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے تصدیق کی ہے کہ کارڈیک ہسپتال کو مکمل طور پر پیپر لیس بنانے کی ڈیڈ لائن اکتیس اکتوبر مقرر کی گئی ہے جبکہ ڈیجیٹائزیشن کا عمل پہلے ہی مکمل کیا جا چکا ہے ، تاہم انتظامیہ کو اس حوالے سے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ وزارت کی جانب سے تاحال حتمی لائحہ عمل طے نہیں کیا گیا اور مسلسل تبدیل ہوتے تقاضوں کی وجہ سے کام میں تاخیر ہو رہی ہے ۔ای ڈی پمز ڈاکٹر تنویر خالق نے متعدد مرتبہ رابطہ کرنے اور پیغام دینے کے باوجود دنیا کے سوالات کے جواب نہیں دئیے ، ہسپتال کے ترجمان پروفیسر ساجد عباسی نے دنیا کے سوال پر کہا ہے کہ وزارت صحت اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اشتراک سے پمز میں ون پیشنٹ ون آئی ڈی کے نام سے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کا عمل تیزی سے جاری ہے ۔ کارڈیک سینٹر کو بطور پائلٹ پراجیکٹ منتخب کیا گیا ہے اور 31 اکتوبر تک تمام امور کو مکمل طور پر کاغذی کارروائی سے پاک کرنے کا پلان تیار کر لیا گیا ہے ۔ 

ون پیشنٹ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...