دڑو میں 60سے زائد سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ
فرنیچر سمیت دیگر بنیادی سہولتیں نایاب، طلبا کھلے آسمان تلے بیٹھنے پرمجبورکئی سال سے محکمہ تعلیم نے توجہ نہیں دی، تدریسی عمل متاثر، طلبا پریشان
دڑو (رپورٹ:امداد میمن)ضلع سجاول کے علاقے دڑو سمیت گردو نواح میں 60 سے زائد سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں، دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہو چکی ہیں، دڑو ٹاؤن کمیٹی، یونین کونسل بچل گــگو، یوسی لائق پور، یوسی کنڈور، یوسی حسین پور، یوسی مراد پور، یوسی اکبر شاہ، یوسی جھوک شریف اور دیگر علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی کئی سال سے مرمت نہیں ہو سکی، جس سے زیرتعلیم بچے سخت موسم میں زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں، حکومت سندھ کی جانب سے عوام کو تعلیم کی سہولیات دینے والے دعوے دھرے رہ گئے۔
ایک غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق سندھ کے ضلع سجاول میں تعلیم کی شرح سندھ سمیت ملک کے تمام اضلاع سے کم اور پیچھے ہے ، مگر افسوس ہے کہ حکومت سندھ اور محکمہ تعلیم نے ابھی تک اس اہم ایشو پر کوئی توجہ نہیں دی، مختلف سیاسی، سماجی رہنماؤں اور شہریوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دڑو سمیت گرد نواح کے مختلف علاقوں میں کئی اسکولوں کی عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، اسکولوں میں فرنیچر سمیت بنیادی سہولیات کا فقدان ہے ، جس کی وجہ سے طلبا و طالبات کی تعلیم موسم سرما میں شدید متاثر ہو رہی ہے ، جس سے طلبا اور ان کے والدین پریشان ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسکولوں کی تمام خستہ حال عمارتیں تعمیر کرا کے بچوں کا تعلیمی مستقبل محفوظ کیا جائے۔