اورنگی سے لاپتہ شہری کی گمشدگی کے مقدمے کی ہدایت

اورنگی سے لاپتہ شہری کی گمشدگی کے مقدمے کی ہدایت

سچل سے لاپتہ شہری کے وکیل اور درخواست گزار عدالت میں پیش نہ ہو سکےملیر و قائد آبادسے لاپتہ شہری جیل میں ہیں،عدالت نے بعض درخواستیں نمٹادیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت نے اورنگی ٹاؤن تھانے کی حدود سے لاپتہ شہری کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرانے کی ہدایت جاری کی اور مختلف مقدمات میں فریقین کے مؤقف سننے کے بعد بعض درخواستیں نمٹا دیں۔ سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار نے ابھی تک لاپتہ شہری کی گمشدگی کا مقدمہ درج نہیں کرایا۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے تمام تفصیلات فراہم کر دی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار شہری کو اٹھا کر لے گئے تھے ۔ عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آیا وہ مقدمہ درج کرانا چاہتے ہیں یا نہیں، جس پر سرکاری وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ آج ہی تھانے جا کر مقدمہ درج کرایا جائے گا۔سماعت کے دوران سچل سے لاپتہ شہری محمد یوسف کے وکیل اور درخواست گزار عدالت میں پیش نہ ہو سکے ، جبکہ گبول ٹاؤن سے لاپتہ شہری شمس کے اہلِ خانہ اور وکلا بھی پیش نہ ہو سکے ۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلا کو پیش ہونے کی ہدایت جاری کی۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملیر سے لاپتہ شہری عمران جیل میں ہے جبکہ قائد آباد سے لاپتہ شہری نجیب اللہ بھی جیل میں ہے ، جس پر عدالت نے دونوں لاپتہ شہریوں کی گمشدگی سے متعلق درخواستیں نمٹا دیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں