ڈیفنس پولیس کسی کام کی نہیں ، تھانہ بند کر دینا چاہیے ،عدالت

 ڈیفنس پولیس کسی کام کی نہیں ، تھانہ بند کر دینا چاہیے ،عدالت

بچوں سے بدفعلی کا ملزم عمران 4روزہ جسمانی ریمانڈپر پولیس کے حوالےعدالت کا ڈیفنس تھانے کے ایک کیس میں ملزم کا ریمانڈ دینے سے انکار

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے بچوں کے ساتھ بدفعلی کے مقدمات میں گرفتار ملزم عمران کو مزید تین مقدمات میں عدالت میں پیش کیے جانے پر مختلف تھانوں کے مقدمات میں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا جبکہ 2022 کے ڈیفنس تھانے کے ایک کیس میں ملزم کا ریمانڈ دینے سے انکار کر دیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں بچوں کے ساتھ بدفعلی کے الزامات میں گرفتار ملزم عمران کو مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے زمان ٹاؤن تھانے کے مقدمے میں ملزم عمران کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کے حوالے کر دیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے 2022 میں درج ایک مقدمے میں ملزم کا جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کرتے ہوئے ڈیفنس پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈیفنس پولیس کسی کام کی نہیں ہے ، تھانے کو بند کر دینا چاہیے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیس کا تفتیشی افسر کہاں ہے ۔ اس پر جونئیر آفیسر نے بتایا کہ کیس کا تفتیشی افسر ٹریننگ پر گیا ہوا ہے ۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ہدایت کی کہ ایس آئی او کو کہا جائے کہ وہ عدالت میں پیش ہوں۔ عدالت نے ڈیفنس تھانے کے ایک مقدمے میں بھی ملزم عمران کا جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کر دیا۔پولیس کے مطابق ملزم عمران پر درجنوں بچوں کے ساتھ بدفعلی کرنے کے الزامات ہیں اور ملزم کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں