لاڑکانہ میں نوجوان قتل، پنگریو کی کمسن بچی ڈوب کرجاں بحق
گاؤں بالاچ میں یاسر دیرینہ تنازع پرنشانہ بنا، فرار ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپےجھڈو میں دکاندار پرفائرنگ، نوڈیرو میں حفیظ کھوڑو کے قاتل گرفتاری کیلئے مظاہرہ
لاڑکانہ، اندرون سندھ (نمائندگان دنیا)لاڑکانہ میں نوجوان کو قتل کردیا گیا، جبکہ پنگریو میں کمسن بچی ڈوب کرجاں بحق ہوگئی، جھڈو میں دکاندار کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام ہوگئی، خبر کے مطابق لاڑکانہ کے قریب تھانہ تعلقہ کی حدود گاؤں بالاچ مری میں مری برادری کے گروہوں کے درمیان جاری پرانے تنازع پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 28 سالہ نوجوان یاسر مری قتل ہوگیا، اطلاع پر پولیس نے پہنچ کر واقعے کی تفصیلات معلوم کرکے لاش کو ٹراما سینٹر منتقل کردیا، پولیس کے مطابق واقعہ پرانے تنازع کا نتیجہ ہے ، جس میں 28 سالہ یاسر مری قتل ہوا ہے ، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں، پولیس کے مطابق ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں، دوسری جانب پوسٹ مارٹم کے بعد مقتول کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ ادھر پنگریو کے قریب گاؤں باگو خان احمدانی میں 7 سالہ بچی پانی کے گڑھے میں گر کر جاں بحق ہوگئی۔ اہل خانہ اور مقامی افراد نے بچی کو پانی کے گڑھے سے نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا، تاہم وہاں موجود ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کردی۔معصوم بچی کی لاش پہنچنے پر گھر میں کہرام مچ گیا اور اہل خانہ غم سے نڈھال ہوگئے ۔
اہل خانہ کے مطابق بچی کو گرنے سے قبل مرگی کا دورہ پڑا تھا جس کے باعث وہ بے ہوش ہوکر پانی کے گڑھے میں جاگری۔ دریں اثنا جھڈو میں اسٹیشن روڈ پر زرعی آلات بنانے والے شاہد رحیم کی ورکشاپ کے نزدیک ٹائر کی دکان پر فائرنگ کی گئی، جس میں دکاندار شفیق آرائیں معجزانہ طور محفوظ رہا، موقع پر موجود افرادنے ملزم کو پکڑ کر جھڈو پولیس کے حوالے کردیا، پولیس نے ملزم وسیم کو گرفتار کرکے پستول برآمد کرلیا، بتایا جاتا ہے کہ گرفتار ملزم وسیم آرائیں دکاندار شفیق آرائیں کا قریبی رشتہ دار ہے اور تنازع گھریلو تنازع کا شاخسانہ ہے ۔ علاوہ ازیں نوڈیرو کے قریب گاؤں داتر ڈنو آگانی میں چند روز قبل قتل ہونے والے عبدالحفیظ کھوڑو کے ورثا نے انصاف کے لیے نوڈیرو ہاؤس کے باہر مین روڈ پر دھرنا دیا۔ مظاہرین نے قرآن خوانی کی اور پلے کارڈز اٹھا کر نعرے بازی کی۔ ورثا کا کہنا تھا کہ مقتول کو بے گناہ قتل کر کے اس پر کاروکاری کا جھوٹا الزام لگایا گیا اور ان کی مدعیت میں ایف آئی آر درج نہیں کی جا رہی۔اے ایس پی نوڈیرو حیدر علی شاہ موقع پر پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کی مدعیت میں الگ ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ تاہم اس کے باوجود بھی دھرنا ختم نہیں کیا گیا تھا۔