تھرپارکر اسپتال میں ادویات بحران شدید، مریض رل گئے
مشینیں بھی خراب، دور دراز سے آئے غریب مریضوں کوشدید مشکلات کاسامنااسپتال میں ڈاکٹروں کی بھی کمی، ایم ایس نے ذمہ داری سابق انتظامیہ پرڈال دی
مٹھی (رپورٹ:اعجازبجیر)صحرائے تھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال مٹھی میں ادویات کا بحران شدت اختیار کر گیا، جس کے باعث دور دراز علاقوں سے سینکڑوں روپے کرایہ بھر کر آنے والے غریب مریضوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ اسپتال میں نہ صرف ادویات نایاب ہیں بلکہ مریضوں کو معمولی لیب ٹیسٹ بھی باہر سے کروانے پڑ رہے ہیں۔ تھر کے باسیوں کے لیے علاج کی آخری امید سمجھا جانے والے سول اسپتال مٹھی میں اس وقت ڈاکٹروں کی بھی شدید کمی ہے ، اور اسپتال مبینہ مالی بے قاعدگیوں کا گڑھ بن چکا۔
مریضوں اور ان کے لواحقین کا الزام ہے کہ اسپتال میں معمولی دوا بھی میسر نہیں، جبکہ داخل مریضوں کو روزانہ 2 سے 3 ہزار روپے کی ادویات باہر سے خریدنے کی پرچی تھما دی جاتی ہے ۔ ایک مریض نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ اگر سی بی سی ٹیسٹ بھی باہر سے ہی کروانا ہے تو پھر اس سرکاری اسپتال کا کیا فائدہ؟ دوسری جانب، ایک ماہ قبل تعینات ایم ایس ڈاکٹر شاہد علی نے تمام ذمہ داری سابق انتظامیہ پر ڈال دی۔ ان کا موقف ہے کہ جب انہوں نے چارج سنبھالا تو اسپتال ادویات کی مد میں 26 کروڑ روپے کا مقروض تھا۔ انہوں نے اس صورتحال کی رپورٹ ڈی جی صحت اور سیکریٹری صحت کو ارسال کر دی ہے ۔ تاہم، ڈی ایچ او تھرپارکر ڈاکٹر لیکھراج کا کہنا ہے کہ ایم ایس کے پاس بجٹ خرچ کرنے اور اضافی فنڈز کی ڈیمانڈ کے مکمل اختیارات ہیں، لیکن ایسی کوئی سمری تاحال موصول نہیں ہوئی۔