جیکب آباد میں تین ہفتوں سے مسلسل پانی کی فراہمی بند
شہری بوند بوند کوترسنے لگے ، اربوں روپے کے منصوبے شہریوں کیلئے بے سودشہر میں شدید گرمی، طویل لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری، کئی ٹرانسفارمر جل گئے
جیکب آباد (نمائندہ دنیا)جیکب آباد میں تین ہفتوں سے پانی کی فراہمی معطل ہونے کے باعث شہری شدید اذیت کا شکار ہیں، مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران سنگین صورت اختیار کرگیا، شہری بوند بوند کو ترسنے لگے ، شہریوں کے مطابق شہر میں واٹر سپلائی اسکیم سے پانی فراہم نہیں کیا جارہا جس کے باعث گھروں میں پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور غریب شہری مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ صاف پانی کی فراہمی کے لیے اربوں روپے کی لاگت سے واٹر سپلائی اسکیم شروع کی گئی مگر بدقسمتی سے یہ منصوبے شہریوں کے لیے بے سود ثابت ہوئے ہیں، اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود آج بھی مکین پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ دوسری جانب شدید گرمی نے شہریوں کا جینا دوبھر کردیا، سورج نے آگ برسانا شروع کردی ہے جبکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث دن کے اوقات میں شہر کی سڑکیں، بازار اور مارکیٹیں سنسان ہوچکی ہیں، شدید گرمی اور حبس کے باعث شہری گھروں تک محدود ہوگئے ہیں، شدید گرمی سے شہر بھر میں متعدد افراد کے بے ہوش ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، ایک طرف شدید گرمی تو دوسری جانب بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور ٹرپننگ نے عوام کو عذاب میں مبتلاکردیا ہے ۔ دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں کئی ٹرانسفارمر جل جانے کے باعث بجلی کی فراہمی شدید متاثر ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں کئی ہفتوں سے کئی علاقے بجلی سے محروم ہیں، شہریوں نے لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج بھی کیا۔