لاکھوں ٹن گندم خریدکر ذخیرہ کئے جانے کا انکشاف

 لاکھوں ٹن گندم خریدکر ذخیرہ کئے جانے کا انکشاف

گندم کا بڑا حصہ مڈل مین نے پہلے ہی زمینداروں سے خرید کر ذخیرہ کر لیا، میانوالی اور بھکر میں پٹواری اور محکمہ فوڈ اور زراعت کے افسران کے مابین کوارڈی نیشن کا فقدان ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کئے جانے پر پیدوار کے درست اعدا د و شمار بھی سامنے نہیں آئے ، سرکاری سطح پر سرگودھا اور خوشاب میں خریداری کا ہدف تکمیل کے قریب

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) محکمہ زراعت سمیت مانیٹرنگ شعبہ جات اور انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی کے باعث امسال پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت سرکاری خریداری کے ساتھ ساتھ لاکھوں ٹن گندم الگ سے خرید کر ذخیرہ کئے جانے کا انکشاف ہوا ، جس کا مقصد مصنوعی قلت پیدا کر کے اوپن مارکیٹ میں ناجائز منافع خوری بتایا جاتا ہے ، ذرائع کے مطابق ضلع سرگودھا اور خوشاب میں گندم کی کاشت قدرے بہتر قرار دی گئی جبکہ میانوالی اور بھکر میں امسال گندم کی کاشت اور کٹائی کے دورانیہ میں موسمی تغیرات کے باعث تبدیل ہوتی صورتحال پر زراعت اور انتظامی اداروں نے بروقت فیصلے اور اقدامات نہیں اٹھائے ،جس کی وجہ سے گندم کا ایک بڑا حصہ مڈل مین نے پہلے ہی ان زمینداروں سے خرید کر ذخیرہ کر لیا، میانوالی اور بھکر میں پٹواری اور گرداور،محکمہ فوڈ اور زراعت کے افسران کے مابین عملی طور پر کوارڈی نیشن کے فقدان اور ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کئے جانے پر پیدوار کے درست اعدا د و شمار بھی سامنے نہیں آئے۔

سرکاری سطح پر سرگودھا اور خوشاب میں خریداری کا ہدف لگ بھگ تکمیل کے قریب ہے تاہم دیگر دونوں اضلاع کی صورتحال بہتر نہیں ہو پا رہی ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گندم کے پی کے سمگل کرنے سلسلہ جاری ہے ،دوسری جانب دیہاتوں میں وسیع پیمانے پر گندم الگ سے ذخیرہ کئے جانے کی مصدقہ اطلاعات ہیں، مڈل مین کے ساتھ ساتھ عام کاشتکار نے بھی اپنی استعاعت کے مطابق گندم ذخیرہ کی ہے اور اوپن مارکیٹ میں یہ تاثر عام ہے کہ ستمبر اور اسکے بعد گندم کی شارٹیج ہو گی جس کے پیش نظر ابھی سے کھلی مارکیٹوں میں گندم کی قیمت ہر دوسرے تیسرے روز بڑھائی بھی جا رہی ہے ، کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں متعلقہ ذمہ داران کو فوری ایکشن لینے اور مربوط چیک اینڈ بیلنس کی ضرورت ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں