شاہ فیصل کالونی میں پانی کی عدم فراہمی پر فریقین کو نوٹس
186ملین کا پی سی ون تیار،پانی کی فراہمی میں بہتری آئیگی، واٹر کارپوریشن لائنوں سے گندے پانی کا اخراج، امراض پھیل رہے ،وکیل درخواست گزار
کراچی (اسٹاف رپورٹر)شاہ فیصل کالونی میں صاف پانی کی عدم فراہمی سے متعلق دائر درخواست پر سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں سماعت ہوئی۔ درخواست چیئرمین یوسی 3 گرین ٹاؤن سمیت تین شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی جس میں فوری سماعت کی استدعا بھی کی گئی تھی۔ عدالت نے فوری سماعت کی درخواست منظور کرتے ہوئے فریقین کو 23 جولائی کے لیے نوٹس جاری کر دیے ۔ دوران سماعت واٹر کارپوریشن کی جانب سے جواب عدالت میں جمع کرایا گیا جس میں بتایا گیا کہ شاہ فیصل ٹاؤن میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے منصوبے کے لیے 186 ملین روپے لاگت کا پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے اور اس منصوبے سے علاقے میں پانی کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔ درخواست گزاروں کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ تقریباً 50 سال پرانی اور بوسیدہ پانی کی لائنوں میں ٹوٹ پھوٹ کے باعث سیوریج کا گندا پانی شامل ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں شاہ فیصل کالونی کے مختلف علاقوں میں آلودہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گندے پانی کے باعث علاقے میں پیٹ اور جلدی امراض پھیل رہے ہیں جبکہ صاف پانی اور صحت مند ماحول کی فراہمی شہریوں کا بنیادی حق اور آئین کے تحت ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ واٹر کارپوریشن اور محکمہ بلدیات کو متعدد درخواستیں دینے کے باوجود مسئلہ حل نہیں کیا گیا۔