نہروں میں نہانے پر پابندی کاغذوں تک محدود
ضلعی انتظامیہ کی غفلت کے باعث نہاتے بچوں اور نوجوانوں کی زندگیاں خطرے میں ، نہروں میں نہانے پر عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے :شہری
فیصل آباد (خصوصی رپورٹر)ضلعی انتظامیہ نہروں میں نہانے پر عائد پابندی پر مؤثر عملدرآمد کرانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے ۔ آئے روز بچوں اور نوجوانوں کے نہروں میں نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہونے کے واقعات سامنے آنے کے باوجود اس سنگین مسئلے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔تفصیلات کے مطابق فیصل آباد کی رکھ برانچ نہر اور جڑانوالہ کی گوگیرہ برانچ نہر میں بچوں اور نوجوانوں کے ڈوبنے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود نہروں میں نہانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ شدید گرمی سے بچنے کے لیے روزانہ بڑی تعداد میں بچے اور نوجوان نہروں کا رخ کرتے ہیں اور خطرناک انداز میں نہر میں چھلانگیں لگاتے ہیں، جس کے باعث کسی بھی وقت حادثہ پیش آنے کا خدشہ رہتا ہے ۔ضلعی انتظامیہ نے عرصہ قبل نہروں کے کناروں پر انتباہی بورڈ نصب کیے تھے ، جن پر ‘‘نہروں میں نہانا منع ہے ، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی’’ درج ہے ،
تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف بورڈ آویزاں کرنے کے بعد متعلقہ اداروں نے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لی، جبکہ پابندی پر عملدرآمد کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے ۔شہریوں کے مطابق ضلعی انتظامیہ شہر کی خوبصورتی کے منصوبوں پر توجہ دے رہی ہے ، لیکن انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار نہیں کی جا رہی، جس کے باعث بچوں اور نوجوانوں کی زندگیاں مسلسل خطرے سے دوچار ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہروں اور راجباہوں میں نہانے پر دفعہ 144 نافذ ہے اور یہ عمل قانوناً ممنوع قرار دیا گیا ہے ، مگر اس پر سختی سے عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ہر سال متعدد قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ نہروں میں نہانے پر عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے ، حساس مقامات پر نگرانی بڑھائی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے ۔