پنگریو:بی آئی ایس پی رقم سے غیرقانونی کٹوتی کا عمل جاری
ڈیوائس ہولڈرز،ایجنٹ ہر قسط میں 1سے 3 ہزار روپے کاٹ رہے ، خواتیناعتراض پر رقم جاری نہیں کی جاتی، اعلیٰ حکام نوٹس ، تحقیقات کرائیں،شہری
پنگریو(نمائندہ دنیا) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)کے تحت غریب و مستحق خواتین کو فراہم کی جانے والی مالی امداد میں مبینہ غیر قانونی کٹوتیوں کی شکایات ایک بار پھر سامنے آ گئی ہیں۔ پنگریوشہر اور گردونواح کے متعدد دیہات سے تعلق رکھنے والی مستحق خواتین نے الزام عائد کیا ہے کہ ادائیگی کے مراکز پر تعینات بعض ڈیوائس ہولڈرز اور ایجنٹ ہر قسط میں ایک سے تین ہزار روپے تک غیر قانونی طور پر کاٹ رہے ہیں، جس کے باعث حکومت کی جانب سے دی جانے والی مکمل مالی امداد ان تک نہیں پہنچ رہی۔ متاثرہ خواتین سارہ، سلمیٰ، ، عزت، شالی، روپی کولہی اور راھدان سمیت دیگر نے بتایا کہ حکومت ہر قسط کی مکمل ادائیگی کے اعلانات کرتی ہے ، تاہم عملی طور پر ادائیگی کے وقت مختلف حیلے بہانوں سے ان کی رقم میں کٹوتی کر دی جاتی ہے ۔ اگر کوئی کٹوتی پر اعتراض کرے تو اسے رقم جاری نہ کرنے ، نیٹ ورک کی خرابی یا بعد میں آنے کا کہہ کر دباؤ ڈالا جاتا ہے ، جس کے باعث وہ مجبوری میں کٹوتی برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے ۔ علاقے کے سماجی حلقوں نے بھی اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے فوری طور پر شکایات کی شفاف تحقیقات کرائیں، ادائیگی مراکز کا خصوصی آڈٹ کیا جائے ، غیر قانونی کٹوتیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستحق خواتین کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ مکمل امدادی رقم بلا کسی کٹوتی فراہم کی جائے ۔