سکھر:کھلے مین ہول شہریوں کی زندگیوں کیلئے خطرہ بن گئے

سکھر:کھلے مین ہول شہریوں کی زندگیوں کیلئے خطرہ بن گئے

شہری اور مویشی گر کر زخمی ہو رہے ،فراہمی و نکاسی آب کے مسائل بھی برقرارانتظامیہ نے مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی، اعلیٰ حکام مسائل حل کرائیں، سماجی حلقے

سکھر (بیورو رپورٹ) سکھر میونسپل کارپوریشن، بلدیاتی نمائندگان و متعلقہ محکموں کے افسران کی مجرمانہ غفلت و لاپروائی کے باعث سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر کے فراہمی و نکاسی آب کے مسائل گزشتہ کئی ماہ سے حل نہیں ہوپائے ہیں، شہر کے بیشتر علاقوں میں کھلے ہوئے مین ہولز جہاں شہریوں کی زندگیوں کیلئے خطرہ بنتے جا رہے ہیں وہیں شہر کی مصروف ترین سڑک ریس کورس روڈ پر زمین کے بیچ میں ایک بہت بڑا گڑھا پڑ چکا ہے ، جس سے کوئی بھی جانی نقصان ہو سکتا ہے ، لیکن افسوس شکایات اور عوام کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے نشاندہی کے باوجود سکھر انتظامیہ اور منتخب نمائندگان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ شہر کے تجارتی و کاروباری مراکز کے بعد شہر کی اہم سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر بھی اکثر گٹر کھلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور شہریوں،بچوں اور مویشیوں کی گرنے اور زخمی ہونے کے واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں۔ شہر کی فٹ پاتھوں پر کھلے ہوئے مین ہولز شہریوں اور مسافروں کیلئے وبال جان بنے ہوئے ہیں ۔ کھلے ہوئے مین ہولز پر ڈھکن نہ ہونے اور سکھر انتظامیہ کی جانب سے مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے پر شہری و سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، سیکریٹری بلدیات، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ، کمشنر سکھر، ڈپٹی کمشنر سکھر، میئر سکھر سمیت سکھر کے منتخب بلدیاتی نمائندگان سے نوٹس لیکر شہری مسائل کو کو ترجیحی بنیادوں پر حل، کھلے مین ہولز پر ڈھکن لگا کر شہریوں کی زندگی محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں