ملک میں ڈیڑھ کروڑ افراد وائرل ہیپاٹائٹس سے متاثر، ماہرین

ملک میں ڈیڑھ کروڑ افراد وائرل ہیپاٹائٹس سے متاثر، ماہرین

لاعلمی، اتائی، بار بار ایک ہی سرنج کا استعمال، جنسی بے راہ روی بنیادی اسبابابتدائی مراحل میں تشخیص پرمرض 98فیصد قابل علاج، حیدر آباد میں خطاب

حیدر آباد (بیورو رپورٹ)ماہرین جگر و معدہ نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت پاکستان میں تقریباً ڈیڑھ کروڑافراد وائرل ہیپاٹائٹس سے متاثر ہیں جس کی بنیادی وجہ مرض سے لاعلمی، اتائی، بار بار ایک ہی سرنج کا استعمال، جنسی بے راہ روی، نان کوالیفائیڈ ڈینٹسٹ، حجام وغیرہ ہیں،جو تشویشناک ہے ، ہیپاٹائٹس کوئی جان لیوا مرض نہیں ، اسکا 98فیصد کامیاب علاج موجود ہے ، بشرطیکہ ابتدائی مراحل میں اس کی تشخیص ہو جائے اور مریض کا بروقت علاج شروع کر دیا جائے ۔ یہ انکشاف سول اسپتال کے گیسٹرو ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے کے حوالے سے منعقدہ ایک آگاہی پروگرام اور واک کے شرکاء سے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر اکرم باجوہ اور ڈاکٹر نند لال سیرانی نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پروگرام میں پروفیسر عمران شیخ،ڈاکٹر ریاض میمن ، ڈاکٹر عارف سکندری، ڈاکٹر رشید بلال اور ڈاکٹر فرحان کے علاوہ ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ڈاکٹر اکرم باجوہ نے مزید کہا کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے ہیپاٹائٹس مرض سے بچاؤ ممکن ہے ، پہلی فرصت میں ہیپاٹائٹس Bاور C کے بلڈ ٹیسٹ کروائیں اورجن افراد کو ہیپاٹائٹس Bنہیں ہے وہ تین حفاظتی ٹیکے لگوا کر ہیپاٹائٹس Bمرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں، اگر خدانخواستہ کوئی ہیپاٹائٹس B مرض کا شکار ہے تو اسے گبھرانے کی ضرورت نہیں بلکہ کسی مستند ڈاکٹرز سے اپنا علاج کروائیں اور ایسے افراد جن میں ہیپاٹائٹس C آتا ہے وہ اپنا تین ماہ کا کامیاب علاج کروا کر صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...