صحت مندپھیپھڑوں کیلئے 45 منٹ کی چہل قدمی مفید قرار
متوازن غذا اور تمباکو نوشی سے پرہیز سے پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتیباقاعدہ ورزش کے ساتھ صحت مند طرزِ زندگی اپنانا بھی انتہائی ضروری ،ماہرین
کراچی(این این آئی)طبی ماہرین نے کہا ہے کہ پھیپھڑوں کو صحت مند رکھنے اور سانس کی بیماریوں کے خطرات کم کرنے کے لیے روزانہ کم از کم 30 سے 45 منٹ تک تیز رفتاری سے چہل قدمی کرنا مفید ہے ، جبکہ باقاعدہ ورزش کے ساتھ صحت مند طرزِ زندگی اپنانا بھی انتہائی ضروری ہے ۔پھیپھڑے ہر سانس کے ذریعے آکسیجن کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں، تاہم فضائی آلودگی، سگریٹ نوشی، ویپنگ، صنعتی دھواں، غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور طویل وقت تک بیٹھے رہنے کی عادت پھیپھڑوں کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے اور وقت کے ساتھ مختلف سانس کی بیماریوں حتیٰ کہ پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔
ماہرین نے کہا کہ جو افراد باقاعدہ ورزش کے عادی نہیں ہیں، وہ ابتدا میں 15 سے 20 منٹ کی چہل قدمی سے آغاز کریں اور پھر بتدریج دورانیہ بڑھا کر 30 سے 45 منٹ تک لے جائیں۔ ان کے مطابق روزانہ صرف 30 منٹ کی تیز چہل قدمی بھی پھیپھڑوں اور دل دونوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے ۔طبی ماہرین کے مطابق باقاعدگی سے پیدل چلنے سے پھیپھڑوں کی آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے ، خون کی گردش میں بہتری آتی ہے ، سانس پھولنے کی شکایت میں کمی واقع ہوتی ہے اور جسمانی قوت برداشت میں اضافہ ہوتا ہے ۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف چہل قدمی کافی نہیں بلکہ تمباکو نوشی سے مکمل اجتناب، تازہ پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل متوازن غذا، مناسب مقدار میں پانی کا استعمال، روزانہ سانس کی مشقیں، یوگا اور جسمانی وزن کو متوازن رکھنا بھی پھیپھڑوں کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments