جناح اسپتال میں بجلی کی بندش اور جنریٹرز کی ناکامی

جناح اسپتال میں بجلی کی بندش اور جنریٹرز کی ناکامی

تین ماہ میں جنریٹرز کے ڈیزل پر 52لاکھ روپے سے زائد خرچ ہونے کا انکشافلوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ اسپتال میں جنریٹرز بھی طویل بندش میں جواب دے گئے

کراچی (این این آئی)سندھ کے سب سے بڑے سرکاری طبی ادارے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جناح اسپتال) میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کی سہولت اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے باوجود ہنگامی جنریٹرز کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اسپتال کے جنریٹرز کے لیے صرف تین ماہ کے دوران 52لاکھ 56ہزار 248روپے مالیت کے ڈیزل کی خریداری اور استعمال کا انکشاف ہوا ہے ، جبکہ گزشتہ سے پیوستہ شب بجلی کی طویل بندش کے دوران ہنگامی جنریٹرز بھی کام نہ کر سکے ۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی تین ماہ، یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران اسپتال کے جنریٹرز کے لیے ڈیزل کی خریداری اور استعمال پر مجموعی طور پر 52 لاکھ 56 ہزار 248 روپے خرچ کیے گئے۔

یہ اخراجات ایسے طبی ادارے میں سامنے آئے ہیں جسے بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے ۔گزشتہ شب بجلی کی فراہمی میں تعطل اسپتال کے اندرونی بجلی کے نظام میں خرابی کے باعث پیش آیا، جس کا کے الیکٹرک کے انفرااسٹرکچر سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جناح اسپتال کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر یحیی تنیو کے مطابق اسپتال میں اکثر فنی خرابیاں اور بجلی کے فالٹ ہوتے رہتے ہیں، جن کے دوران متبادل بجلی کی فراہمی کے لیے جنریٹرز استعمال کیے جاتے ہیں۔جنریٹرز کو تکنیکی معائنے  کے لیے بھی وقتاً فوقتاً چلایا جاتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...