ٹریفک دباؤ کم کرنے کیلئے کیے اقدامات غیر مؤثر ثابت
میگا ترقیاتی منصوبے بغیر مکمل سائنسی تحقیق کے شروع کیے جاتے رہے
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )لاہور میں ٹریفک مسائل میں مسلسل اضافے کے باوجود بنیادی سائنسی منصوبہ بندی نہ ہو سکی۔ شہر میں سڑکوں کی توسیع، فلائی اوورز اور انڈر پاسز کے منصوبے تو شروع کیے گئے ، مگر ان تمام منصوبوں کی بنیاد یعنی ٹریفک ڈیٹا اور انٹرسیکشن سٹڈی طویل عرصے تک نظر انداز کی جاتی رہی۔ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے اور اس کی ذیلی ایجنسی ٹیپا کو شہر میں ٹریفک کی ابتر صورتحال کی بہتری کے لیے جامع سٹڈی کا ٹاسک دیا گیا تھا، تاہم برسوں گزرنے کے باوجود ٹریفک انٹرسیکشن سٹڈی اور ڈیجیٹل ٹوپوگرافک سروے مکمل نہ ہو سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریفک دباؤ کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات مؤثر ثابت نہ ہو سکے ۔شہر میں میگا ترقیاتی منصوبے بغیر مکمل سائنسی تحقیق کے شروع کیے جاتے رہے ۔ سڑکوں کے جیومیٹرک ڈیزائن میں تبدیلی، لینز کی تعداد میں اضافہ، فلائی اوورز اور انڈر پاسز کی تعمیر ٹریفک پیٹرن کے درست تجزیے کے بغیر کی گئی، جس کے باعث کئی مقامات پر ٹریفک کے مسائل کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئے ۔لاہور میں رواں مالی سال کے دوران 80 ارب روپے سے زائد لاگت کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے ۔